صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 231
صحیح مسلم جلد نهم 231 كتاب الجهاد والسير فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ نشیب سے پکارا اے مہاجرو! ابن زنیم کو قتل کر دیا الْوَادِي يَا لِلْمُهَاجِرِینَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمِ قَالَ گیا ہے۔وہ کہتے ہیں میں نے اپنی تلوار سونتی اور میں فَاحْتَرَضْتُ سَيْفِي ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَى أُولَئِكَ ان چاروں پر حملہ آور ہوا جبکہ وہ سورہے تھے۔میں الْأَرْبَعَة وَهُمْ رُقُودٌ فَأَخَذْتُ سَلَاحَهُمْ نے ان کے ہتھیار لے لئے اور اپنے ایک ہاتھ میں فَجَعَلْتُهُ ضِعْنَا فِي يَدِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ وَالَّذِي ان ا گٹھا بنالیا۔وہ کہتے ہیں پھر میں نے کہا اس کی قسم كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّد لَا يَرْفَعُ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَأْسَهُ جس نے محمد کے چہرہ کو عزت دی ہے، تم میں سے جو إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاهُ قَالَ ثُمَّ جِنْتُ بھی سر اٹھائے گا میں اس کو وہاں ماروں گا جہاں اس بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله کی دونوں آنکھیں ہیں۔وہ کہتے ہیں پھر میں انہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَاءَ عَمِّي عَامِرٌ بِرَجُلٍ ہانکتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا۔وہ کہتے ہیں مِنْ الْعَبَلَاتِ يُقَالُ لَهُ مِكْرَةٌ يَقُودُهُ إِلَى اور میرا چھا عامر عبلات میں سے ایک شخص کو لائے رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تھے جس کا نام مکر ز تھا۔مشرکین کے ستر آدمیوں کے فَرَسٍ مُجَفَّفَ فِي سَبْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ساتھ ایسے گھوڑے پر جس پر جھول پڑی ہوئی تھی لے فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آیا۔رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُور انہیں چھوڑ دو کہ بدعہدی کی ابتدا اور تکرار ان کی طرف وَلِنَاهُ فَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه ہو۔اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے درگز ر فرمایا اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ اللهُ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور وہی ہے جس أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ كُلَّهَا قَالَ وادی مکہ میں روک دیئے تھے۔بعد اس کے کہ اس خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلا نے تمہیں ان پر کامیابی عطا کی۔۔۔وہ کہتے ہیں پھر 2 بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي لَحْيَانَ جَبَلٌ وَهُمْ ہم مدینہ کی طرف واپس جانے کے لئے نکلے پھر ہم الْمُشْرِكُونَ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ الله صَلَّی ایک جگہ اترے، ہمارے اور بنی لحیان کے درمیان ایک اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ رَقيَ هَذَا الْجَبَلَ پہاڑ تھا وہ مشرک تھے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے 1 عبلات ایک چھوٹے قبیلہ کا نام ہے۔2: (الفتح : 25)