صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 213
صحیح مسلم جلد نهم 213 كتاب الجهاد والسير صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ ثُمَّ رَكِبَ سوار ہوئے یہانتک کہ حضرت سعد بن عبادہ کے پاس دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ آئے اور فرمایا اے سعد کیا تم نے نہیں سنا جو ابو حباب أَيْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى مَا قَالَ أَبُو حُبَابِ نے کہا ؟ آپ کی مراد عبد اللہ بن اُبی سے تھی۔اس يُرِيدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ نے یہ یہ کہا ہے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اس سے اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ فَوَاللَّهِ درگزر فرمائیے اور اسے معاف کیجئے۔اللہ کی قسم ! اللہ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللهُ الذي أَعْطَاكَ وَلَقَدِ نے آپ کو عطا فرمایا ہے جو بھی عطا فرمایا ہے۔اس اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبَحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ علاقہ والوں نے تو اس پر مصالحت کی تھی کہ اسے تاج فَيُعَصِّبُوهُ بالعصَابَة فَلَمَّا رَدَّ اللهُ ذَلكَ پہنائیں اور اس کی دستار بندی کریں۔جب اللہ بالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ شَرق بذلكَ فَذَلكَ تعالیٰ نے ان کے اس ارادہ کو اس حق کی وجہ سے جو بهِ مَا رَأَيْتَ فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله اس نے آپ کو دیا ہے رد کر دیا۔اس کو غصہ آیا اس وجہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا سے اس نے وہ کیا جسے آپ نے ملاحظہ فرمایا۔پھر حُجَيْنُ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا لَيْتْ عَنْ رسول اللہ ﷺ نے اس سے درگزر فرمایا۔عقیل کی عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ روایت میں ہے کہ یہ اس سے پہلے کی بات ہے جب بمثله وَزَادَ وَذَلكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ عبداللہ مسلمان ہوا تھا۔الله [4460,4659] 3343{117} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ :3343 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے وہ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ کہتے ہیں نبی ﷺ سے عرض کیا گیا اگر آپ عبداللہ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى بن أبي کے پاس تشریف لے جاتے۔راوی کہتے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبي ہیں آپ اُس کی طرف چلے اور آپ گدھے پر سوار قَالَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ وَرَكِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ تھے (دوسرے ) مسلمان ( بھی ) چلے اور وہ بنجر شورہ وهي أَرْضَ سَبَحَةٌ فَلَمَّا أَتَاهُ زمین تھی۔جب نبی ﷺ اس کے پاس آئے۔اس النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي نے کہا ہم سے دور رہو کیونکہ تمہارے گدھے کی بونے الْمُسْلِمُونَ 3343 : تخريج : بخارى كتاب الصلح باب ما جاء فى الاصلاح بين الناس 2691