صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 212
صحیح مسلم جلد نهم الله 212 رحیم كتاب الجهاد والسير صلى الله وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و ہوئے جس پر پالان تھا اور اس کے نیچے فدک کی قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا چادر تھی اور آپ نے اپنے پیچھے اسامہ کو بٹھایا۔آپ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَنْ أُسَامَةَ بْنَ حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لئے بنی حارث زَيْد أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن خزرج قبیلہ میں تشریف لے گئے۔یہ بدر کے رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافُ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ واقعہ سے پہلے کی بات ہے۔آپ ایک مجلس کے فَدَكِيَّةٌ وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أَسَامَةَ وَهُوَ يَعُودُ پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور مشرکین بتوں سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ کے پجاری اور یہود ملے جلے بیٹھے تھے۔ان میں الْخَزْرَجِ وَذَاكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّى مَرَّ عبد الله بن أبی بھی تھا اور اس مجلس میں عبد اللہ بن بمجلس فيه أَخْلَاظٌ مِنَ الْمُسْلِمينَ رواحہ بھی تھے۔جب مجلس میں جانور کی گرد پہنچی وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ فِيهِمْ تو عبد الله بن اُبی نے اپنی ناک اپنی چادر سے عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبَيٍّ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ڈھانپ لی پھر کہنے لگا ہم پر گرد نہ ڈالو۔نبی نے رَوَاحَةَ فَلَمَّا غَشِيَتْ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ نے انہیں السلام علیکم کہا پھر ٹھہرے اور (سواری الدَّابَّةِ حَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ سے اُترے اور انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان پر قَالَ لَا تُعَبِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ قرآن پڑھا۔عبداللہ بن ابی کہنے لگا اے شخص یہ اچھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ بات نہیں، اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو ہماری مجالس فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ فَقَالَ میں نہیں تکلیف نہ دو اور اپنے ڈیرہ کی طرف لوٹ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِنْ جاؤ اور جو تمہارے پاس آئے اس کے پاس بیان هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا فِي کرو۔عبد اللہ بن رواحہ نے کہا آپ ہماری مجالس مَجَالِسِنَا وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ میں تشریف لایا کریں ہم یہ پسند کرتے ہیں۔پھر منَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ مسلمان اور مشرک اور یہود ایک دوسرے کو برا بھلا مَجَالسنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلكَ قَالَ کہنے لگے یہانتک کہ انہوں نے ارادہ کیا کہ ایک اغْتَنَا فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ دوسرے پر حملہ کریں۔راوی کہتے ہیں نبی مہ نہیں ﷺ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ محمل کی تلقین کرتے رہے۔پھر آپ اپنی سواری پر