صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 200
مسلم جلد نهم 200 كتاب الجهاد والسير مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةِ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا اسے مارنے کا ارادہ کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کا فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحْتُ فَلَمَّا ارشاد یاد آ گیا کہ انہیں میرے خلاف انگیخت نہ کر أَصْبَحْتُ قَالَ قُمْ يَا نَوْمَانُ [4640] بیٹھنا۔اگر میں اسے تیر مارتا تو اسے ضرور لگتا۔پس میں لوٹا اور گویا میں حمام میں چل رہا تھا۔جب میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ کو (دشمن) قوم کی حالت بتائی اور جب فارغ ہوا تو سردی محسوس کی۔جس پر رسول اللہ ﷺ نے ایک اور عباء جسے لے کر آپ نماز ادا فرماتے تھے مجھے اوڑھا دی۔میں صبح تک سوتا رہا جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا اے سونے والے اُٹھ [37] 39: بَاب غَزْوَةِ أُحُدٍ غزوة أحد کا بیان 3330(100) و حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ :3330 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيّ بْن رسول الله لا احد کے دن فقط سات انصار اور زَيْدِ وَثَابِتِ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنس بن مالك أَنَّ قریش کے دو آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے ، جب رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرِدَ يَوْمَ انہوں (دشمن ) نے آپ پر حملہ کیا تو آپ نے فرمایا سَبْعَة مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْن من انہیں ہم سے کون دور کرے گا ؟ اور اس کے لئے قُرَيْشٍ فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ جنت ہے یا ( فرمایا ) وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔أحد في مِنْ قم یا نومان، نومان میں مبالغہ کا صیغہ ہے اور پیار سے چھیڑ بھی ہے۔3331 : تخريج : بخارى كتاب الوضوء باب غسل المرأة اباها الدم عن وجهه 243 كتاب الجهاد والسير باب المجن ومن يترس بترس صاحبه 2903 باب لبس البيضة 2911 باب دواء الجرح باحراق الحصير 3037 كتاب المغازى باب ما اصاب النبي الله من الجراح يوم احد 3075 كتاب النكاح باب ولا يبدين زينتهن الا لبعولتهن 5248 كتاب الطب باب حرق الحصير يسد به الدم 5722 ترمذی کتاب الطب باب التداوي بالرماد 2085 ابن ماجه كتاب الطب باب دواء الجراحة 3464 ، 3465