صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 199
صحیح مسلم جلد نهم 199 كتاب الجهاد والسير صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ وَأَبْلَيْتُ کرتے ؟ میں نے دیکھا کہ ہم لوگ احزاب کی رات فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَلكَ لَقَدْ رسول اللہ اللہ کے ساتھ تھے۔تیز ہوا اور شدید ٹھنڈ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ہمیں آپکڑا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا کوئی لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةً وَقُرٌّ شخص ہمارے پاس (دشمن ) قوم کی خبر لائے گا۔اللہ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تعالى (ایسے شخص کو ) قیامت کے دن میرے ساتھ رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي رکھے گا۔ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی يَوْمَ الْقِيَامَة فَسَكَتَنَا فَلَمْ يُحِبُهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ جواب نہ دیا آپ نے پھر فرمایا کیا کوئی شخص ہے؟ جو قَالَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ ہمارے پاس (دشمن) قوم کی خبر لائے ؟ اللہ تعالیٰ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَكَتَنَا فَلَمْ يُحِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ قیامت کے دن (ایسے شخص کو ) میرے ساتھ رکھے ثُمَّ قَالَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ گا۔ہم خاموش رہے۔اور ہم میں سے کسی نے جواب اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَكَتَنَا فَلَمْ يُحِبُهُ مِنَّا نہ دیا پھر آپ نے ( تیسری مرتبہ فرمایا کیا کوئی شخص ) أَحَدٌ فَقَالَ قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ہے جو ہمارے لئے دشمن قوم کی خبر لائے۔اللہ تعالیٰ فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ قَالَ قیامت کے دن (ایسے شخص کو ) میرے ساتھ رکھے اذْهَبْ۔ا فَأْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تَدْعَرْهُمْ عَلَيَّ گا۔ہم خاموش رہے۔آپ نے فرمایا اے حذیفہ ! تم وَلَّيْتُ مِنْ عنده جَعَلْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي اُٹھو اور ہمارے پاس (دشمن ) قوم کی خبر لاؤ۔اب ؟ حَمَّامٍ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ میرے لئے کھڑے ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا يَصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ فَوَضَعْتُ سَهُمَا فِي جبکہ آپ نے میرا نام لے کر مجھے پکارا تھا۔آپ نے كَبِدِ الْقَوْسِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ فَذَكَرْتُ فرمایا جاؤ اور (دشمن ) قوم کی خبر لے کر آؤ۔انہیں قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا میرے خلاف انگیخت نہ کر بیٹھنا۔جب میں آپ کے تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ وَلَوْ رَمَيْتُهُ لَأَصَبْتُهُ فَرَجَعْتُ پاس سے چلا تو گویا میں حمام میں چل رہا ہوں (یعنی وَأَنَا أَمْشي في مِثْلِ الْحَمَّامِ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ سردی کا احساس نہ تھا) یہانتک کہ میں ان کے پاس فَأَخبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَفَرَغْتُ قُرِرْت پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ابوسفیان اپنی کمر کو آگ سے فَالْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سینک رہا ہے۔میں نے تیر کمان میں چڑھایا اور