صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 201 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 201

مسلم جلد نهم 201 كتاب الجهاد والسير الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفيقي في الْجَنَّةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھا اور لڑا یہانتک کہ منَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ رَهقُوهُ أَيْضًا شہید ہو گیا انہوں نے پھر آپ پر حملہ کیا۔آپ نے فَقَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفيقي فرمایا انہیں ہم سے کون ہٹائے گا ؟ اور اس کے لئے الْجَنَّةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ جنت ہے یا ( فرمایا) وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔حَتَّى قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلكَ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ انصار میں سے پھر ایک شخص آگے بڑھا اور لڑا یہانتک فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ وہ شہید ہو گیا اور اسی طرح ہوتا رہا یہانتک کہ لصَاحِبَيْهِ مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا [4641] سات اشخاص شہید ہو گئے۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے دو ساتھیوں سے فرمایا ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔3331{101} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى 3331 : عبد العزیز بن ابو حازم اپنے والد سے روایت التَمِيمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سہل بن سعد سے عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدِ يَسْأَلُ عَنْ سنا ان سے احد کے دن رسول اللہ علہ کے زخمی جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہونے کے بارہ میں پوچھا گیا انہوں نے بتایا۔يَوْمَ أَحد فَقَالَ جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا اور آپ کا سامنے کا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُسرَتْ رَبَاعِيَتُهُ دانت مبارک ٹوٹ گیا اور آپ کے سر پر جو ٹو د تھا وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسه فَكَانَت ٹوٹ گیا۔رسول اللہ اللہ کی بیٹی حضرت فاطمہ خون فَاطِمَةً بنتُ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ودھوتی تھیں اور حضرت علی بن ابی طالب ڈھال سے وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي اس پر پانی ڈالتے تھے۔جب حضرت فاطمہ نے طَالِب يَسْكُبُ عَلَيْهَا بِالْمَجَنِّ فَلَمَّا رَأَتْ دیکھا کہ پانی سے اور زیادہ خون نکلتا ہے تو انہوں فَاطَمَةً أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا كَفْرَةً نے چٹائی کا ٹکڑا لیا اسے جلایا یہانتک کہ وہ راکھ أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ ہو گیا۔پھر اسے زخم پر لگایا تو خون رک گیا۔رَمَادًا ثُمَّ أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ ایک اور روایت میں ہے کہ ابو حازم نے حضرت سہل (102) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بن سعد کو اس وقت جبکہ ان سے رسول اللہ علہ کے