صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 195 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 195

صحیح مسلم جلد نهم 195 كتاب الجهاد والسير في الْمُشْرِكِينَ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَى مقتول جہنمی نہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا انہوں نے کہا ہم کیوں اپنے دین سے متعلق ذلت رَسُولَ الله أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى قبول کریں اور ہم لوٹ جائیں۔جبکہ ابھی تک اللہ بَاطِلِ قَالَ بَلَى قَالَ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا۔آپ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى قَالَ فَقِيمَ نُعْطي نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہوں الدُّنْيَّةَ فِي دِينِنَا وَتَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُم الله اور اللہ مجھے بھی ضائع نہیں کرے گا۔راوی کہتے ہیں بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي حضرت عمرؓ چلے گئے مگر جوش کی حالت میں صبر نہ کر رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا قَالَ سکے۔وہ حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور کہا اے فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبرْ مُتَغَيِّظًا فَأَتَى أَبَا ابوبكر " کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں انہوں نے بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرِ أَلَسْنَا عَلَى حَقٌّ وَهُمْ کہا کیوں نہیں؟ انہوں (حضرت عمر) نے کہا کیا عَلَى باطل قَالَ بَلَى قَالَ أَلَيْسَ قَتْلَانَا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى قَالَ فَعَلَامَ نہیں جائیں گے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔انہوں تُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَتَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُم ( حضرت عمر) نے کہا تو پھر ہم اپنے دین کے بارہ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ میں ذلت کیوں قبول کریں اور ہم لوٹ جائیں رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَ حالانکہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ درمیان فیصلہ نہیں کیا۔انہوں (حضرت ابوبکر) نے وَسَلَّمَ بِالْفَتْحِ فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ کہا اے خطاب کے بیٹے وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا۔جس میں فتح کا ذکر ہے۔آپ نے حضرت عمر کو بلا بھیجا اور انہیں یہ سورت پڑھائی۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں تو ان کا دل خوش ہو گیا اور وہ واپس لوٹے۔فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ فَتْحٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ [4633]