صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 188
مسلم جلد نهم 188 كتاب الجهاد والسير يُدْرِكَ طَعَامُنَا فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ حضرت خالد بن ولید کو دائیں جانب اور حضرت زبیر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ کو بائیں جانب اور حضرت ابوعبیدہ کو پیادہ لوگوں خالد بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَة الْيُمْنَى اور وادی کے نشیب کا سردار بنایا اور فرمایا اے ابو ہریرہ وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَى انصار کو میرے پاس بلاؤ میں نے انہیں بلایا۔وہ وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْبَيَادِقَةِ وَبَطْنِ دوڑتے ہوئے آئے۔آپ ﷺ نے فرمایا اے الْوَادِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارَ گروه انصار! کیا تم قریش کی جماعت کو دیکھتے ہو؟ فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا يُهَرْولُونَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ انہوں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا کل جب تمہاری الْأَنْصَارِ هَلْ تَرَوْنَ أَوْ بَاشَ قُرَيْشٍ قَالُوا نَعَمْ ان سے مڈھ بھیڑ ہو تو انہیں کاٹ کر رکھ دینا اور آپ قَالَ انْظُرُوا إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور دایاں ہاتھ بائیں تَحْصُدُوهُمْ حَصْدًا وَأَخْفَى بِيَدِهِ وَوَضَعَ ہاتھ پر رکھا اور فرمایا تمہارے وعدہ کی جگہ صفا ہے۔يَمِينَهُ عَلَى شماله وَقَالَ مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا راوی کہتے ہیں تو اس دن جو بھی انہیں ملا انہوں نے صلى الله قَالَ فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَامُوهُ اسے سلا دیا راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ صفا پر قَالَ وَصَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ چڑھے انصار آئے اور صفا کو گھیرے میں لے لیا۔پھر وَسَلَّمَ الصَّفَا وَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَأَطَافُوا ابوسفیان آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! قریش کا بالصَّفَا فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ سبزہ تباہ کر دیا گیا۔آج کے بعد قریش نہ ہونگے۔ابو الله أَبيدَتْ حَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ سفیان کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص الْيَوْمِ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی ابو سفیان کے گھر داخل ہوگا وہ امن میں آجائے گا۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ اور جس نے ہتھیار ڈال دیئے وہ (بھی) امن میں فَهُوَ آمِنْ وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنْ وَمَنْ آجائے گا اور جو اپنا دروازہ بند کر لے وہ ( بھی ) امن أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنْ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ أَمَّا میں ہے۔انصار نے کہا اس شخص کو اپنے قبیلہ کی محبت الرَّجُلُ فَقَدْ أَحَدَثَهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي اور اپنی بستی کی محبت نے پکڑ لیا ہے۔رسول اللہ علیے قَرْيَتِهِ وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّی پر وحی نازل ہوئی۔آپ نے فرمایا تم نے کہا تھا کہ اس یہ بات واقعات صحیحہ کے بالکل خلاف ہے۔