صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 187
صحیح مسلم جلد نهم 187 كتاب الجهاد والسير دونوں ہاتھ اُٹھائے اور اللہ کی حمد کرنے لگے اور اللہ سے جو چاہ مانگنے لگے۔ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپ نے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا اور فرمایا انہیں کاٹ کر رکھ دو اور اس روایت میں ( قَالُوا قَدْ كَانَ ذَاكَ قَالَ كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ کی بجائ) قَالُوا قُلْنَا ذَاكَ يَارَسُوْلَ اللهِ قَالَ فَمَا اسْمِي إِذًا كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ کے الفاظ ہیں۔یعنی انصار نے یہ بتایا، یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا پھر میرا نام کیا ہوگا ؟ ہر گز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔3318{86} حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّه بْنُ عَبْدِ :3318 حضرت عبداللہ بن رباح سے روایت ہے وہ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ کہتے ہیں ہم معاویہ بن ابو سفیان کی طرف گئے اور حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ ہمارے ساتھ حضرت ابو ہریرہ بھی تھے۔ہم میں سے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ وَقَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ ہر شخص ایک دن اپنے ساتھیوں کے لئے کھانا بناتا أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَكَانَ كُلُّ تھا۔میری باری آئی تو میں نے کہا اے ابو ہریرہ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ آج میری باری ہے۔وہ سب گھر آئے۔ابھی فَكَانَتْ نَوْبَتِي فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الْيَوْمُ ہمارا کھانا تیار نہیں ہوا تھا میں نے کہا اے ابو ہریرہ فَجَاءُوا إِلَى الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِكُ آپ رسول اللہ ﷺ کی کوئی بات سنائیں یہانتک طَعَامُنَا فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَوْ حَدَّيْتَنَا عَنْ کہ ہمارا کھانا تیار ہو جائے۔انہوں نے کہا ہم فتح مکہ صد الله رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى کے دن رسول اللہ علیہ کے ساتھ تھے۔آپ نے یہ بیانات بخاری کی صحیح احادیث نیز قرآن مجید میں حضرت یوسف کے پیرایہ میں آپ ﷺ کے بارہ میں پیشگوئی کے نوبتي بیان جس میں لا تشریب علیکم کے الفاظ ہیں کے بالکل خلاف ہے۔3318 : اطراف : مسلم كتاب الجهاد والسير باب فتح مكة۔۔۔3317