صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 185 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 185

صحیح مسلم جلد نهم 185 كتاب الجهاد والسير وَسَلَّمَ تَرَوْنَ إِلَى أَرْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ اور ساتھی اکٹھے کئے اور انہوں نے کہا ہم ان لوگوں کو ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأَخْرَى ثُمَّ آگے کرتے ہیں اگر انہیں کچھ ملا تو ہم بھی ان کے قَالَ حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَمَا ساتھ شریک ہوں گے اور اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو أَحَدٌ صلى الله شَاءَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ وَمَا جو ہم سے کہا جائے گا ہم دیں گے۔رسول اللہ علیہ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا قَالَ فَجَاءَ أَبُو نے فرمایا تم قریش کے گروہ اور ان کے ساتھیوں کو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبِيحَت حَضرَاءُ دیکھتے ہو پھر آپ نے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارتے قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ثُمَّ قَالَ مَنْ دَخَلَ ہوئے فرمایا ” یہانتک کہ تم مجھے صف پر ملؤ راوی کہتے صفا دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنْ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ ہیں پھر ہم چلے اور ہم میں سے جو بھی کسی کو مارنا چاہتا بَعْضُهُمْ لِبَعْض أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ في قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَاءَ الْوَحْيُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ الْوَحْيُ لَا يَحْفَى عَلَيْنَا فَإِذَا جَاءَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْةَ مارڈالتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کر سکتا۔وہ کہتے ہیں ابوسفیان آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! قریش کا سبزہ تباہ کر دیا گیا آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔پھر آپ نے فرمایا ” جو شخص ابوسفیان کے گھر طَرْفَهُ إِلَى رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ فَلَمَّا انْقَضَى میں داخل ہوا تو وہ امن میں ہے۔انصار ایک الْوَحْيُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ دوسرے سے کہنے لگے اس شخص پر اپنے وطن کی محبت وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْكَ يَا اور اپنے قبیلہ کی رافت آگئی ہے۔" حضرت ابو ہریرہ رَسُولَ اللهِ قَالَ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ کہتے ہیں اور وحی نازل ہوئی اور جب وحی آتی تھی تو رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ قَالُوا قَدْ كَانَ ذَاكَ قَالَ كَلَّا ہم پر خفی نہ رہتی تھی۔پس جب وہ آتی تو ہم میں سے إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى الله کوئی بھی رسول اللہ علیہ کی طرف نظر نہ اُٹھاتا تھا وَإِلَيْكُمْ وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتَ یہاں تک کہ وجی ختم ہوگئی اور جب وحی ختم ہوئی تو مَمَاتَكُمْ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ وَيَقُولُونَ وَالله رسول الله ﷺ نے فرمایا " اے گروہ انصار انہوں مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضَّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ نے کہا یا رسول اللہ ! حاضر ہیں آپ نے فرمایا تم نے اس روایت کی بعض تفاصیل بخاری کی روایت سے مختلف معلوم ہوتی ہیں۔اس لئے اس موضوع پر ان روایات کا مطالعہ ضروری ہے۔