صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 184
صحیح مسلم جلد نهم 184 كتاب الجهاد والسير عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کے پاس گئے اور یہ رمضان کا واقعہ ہے۔(راوی وَفَدَتْ وُفُودْ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَذَلِكَ فِي کہتے ہیں ) ہم میں سے بعض دوسروں کے لئے کھانا رَمَضَانَ فَكَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضِ الطَّعَامَ تیار کرتے اور ابو ہریرہ اکثر ہمیں اپنے ڈیرہ کی طرف فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُونَا إِلَى بلاتے۔میں نے کہا کیا میں بھی کھانا تیار کر کے انہیں رَحْلِهِ فَقُلْتُ أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى اپنے ڈیرہ کی طرف نہ بلاؤں۔میں نے کھانے کی رَحْلِي فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا تیاری کا حکم دیا پھر شام کو میں حضرت ابو ہریرہ سے ملا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِيِّ فَقُلْتُ الدَّعْوَةُ عِنْدِي میں نے کہا آج رات کی دعوت میرے ہاں ہے۔اللَّيْلَةَ فَقَالَ سَبَقْتَنِي قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَوْتُهُمْ انہوں نے کہا تم مجھ سے سبقت لے گئے ہو۔میں فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَلَا أَعْلَمُكُمْ بحدیث من نے کہا ہاں میں نے ان کو بلایا تو حضرت ابو ہریرہؓ نے حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ ذَكَرَ فَتْحَ کہا اے گروہ انصار! کیا میں تمہیں تمہاری باتوں میں مَكَّةَ فَقَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے ایک بات نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے فتح مکہ کا ذکر وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى کیا اور کہا رسول اللہ علیہ تشریف لائے یہانتک کہ إِحْدَى الْمُجَنَّبَتَيْنِ وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت زبیر کو لشکر کے ایک الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى پہلو پر اور حضرت خالد بن ولید کولشکر کے دوسرے الْحُسْرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ الله پہلو پر مقرر فرمایا اور حضرت ابو عبیدہ کو ان لوگوں پر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَة قَالَ فَنَظَرَ جو پیادہ تھے مقرر فرمایا۔وہ گھائی میں اُترے اور فَرَآنِي فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ لَبَّيْكَ يا رسول اللہ اللہ ایک دستہ میں تھے۔راوی کہتے ہیں رَسُولَ الله فَقَالَ لَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيُّ زَادَ انہوں نے نظر دوڑائی اور مجھے دیکھا اور فرمایا ابو ہریرہ غَيْرُ شَيْبَانَ فَقَالَ اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ قَالَ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔آپ فَأَطَافُوا بِهِ وَوَبَّشَت قُرَيْشٍ أَوْبَاشًا لَهَا نے فرمایا میرے پاس انصاری کے سوا کوئی نہ آئے وَأَتْبَاعًا فَقَالُوا تُقَدِّمُ هَؤُلَاء فَإِنْ كَانَ لَهُمْ مزید فرمایا شیبان اور راوی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ شَيْءٍ كُنَّا مَعَهُمْ وَإِنْ أَصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي نے فرمایا میرے پاس انصار کو بلاؤ۔وہ کہتے ہیں وہ سُئِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپ کے ارد گرد جمع ہو گئے اور قریش نے اپنے گروہ