صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 163
مسلم جلد نهم أَلَا يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَادٍ فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُكَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذ غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَكْتُمْ قِدْرَكُمْ لَا شَيْءٍ فِيهَا وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ وَقَدْ قَالَ الْكَرِيمُ أَبُو حُبَاب أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلَا تَسِيرُوا وَقَدْ كَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالُ كَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّحُورُ [4401,4600] 163 میں یہ اضافہ ہے شاعر کہتا ہے۔كتاب الجهاد والسير اے سعد ، بنی معاذ کے سعد، قریظہ اور نفیر نے کیا کیا تھا؟ تیری عمر کی قسم بنی معاذ کا سعد ہی ( در اصل تکلیف لے جانے والا تھا۔جس دن انہوں نے کوچ کیا اور تم اپنی ہانڈی خالی چھوڑ گئے جس میں کچھ نہیں جبکہ ان لوگوں کی ہنڈیا گرم اور جوش زن ہے۔اور معزز ابو حباب نے کہا اے قینقاع ٹھہرے رہنا اور چل نہ پڑنا اور اپنے علاقہ میں مضبوطی سے قائم ہیں جس طرح میطان کی چٹانیں مضبوطی سے قائم ہیں۔[23]25: بَاب : الْمُبَادَرَةُ بِالْغَزْوِ وَتَقْدِيمُ أَهَمِّ الْأَمْرَيْنِ الْمُتَعَارِضَيْنِ باب: غزوہ میں جلدی کرنا اور دو معارض باتوں میں سے اہم کو ترجیح دینا 3303{69] و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ :3303 حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں صلى الله أَسْمَاءَ الصُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ جس دن رسول اللہ یہ احزاب سے لوٹے آپ نے أَسْمَاءَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَادَى فِينَا ہمارے درمیان منادی کروائی کہ تم میں سے ہر ایک رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بنی قریظہ میں نماز ظہر ادا کرے بعض لوگ وقت نکل الصَرَفَ عَنِ الْأَحْزَابِ أَنْ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ جانے سے ڈرے اور انہوں نے نماز بنی قریظہ سے الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَتَخَوَّفَ نَاسٌ ورے پڑھ لی۔دوسرے لوگوں نے کہا ہم تو وہیں نماز فَوْتَ الْوَقْتِ فَصَلُّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ وَقَالَ پڑھیں گے جہاں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز میطان ایک پہاڑ کا نام ہے جو مزینہ قبیلہ کے علاقہ میں ہے۔الله ضائي الكمية عليه 3303 : تخریج : بخاری کتاب صلاة الخوف باب صلاة الطالب المطلوب راكبا 946 باب مرجع النبي من الاحزاب ومخرجه الى بني قريظة 4119