صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 153 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 153

صحیح مسلم جلد نهم 153 كتاب الجهاد والسير وَصَنَادِيدُهَا فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ دیں اور علی کے سپرد عقیل کریں کہ وہ اس کی گردن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يَهْوَ مَا مارے اور میرے سپر دفلاں کو کریں جو نسبا حضرت عمر کا قُلْتُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَد جنت فَإِذَا رَسُولُ رشتہ دار تھا تو میں اس کی گردن مار دوں کیونکہ یہ سب الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْر کفار کے لیڈر اور ان کے سردار ہیں رسول اللہ علی قَاعِدَيْن يَبْكيَان قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہ نے حضرت ابو بکر کی بات کو ترجیح دی۔جب اگلا دن أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنتَ ہوا تو میں آیا اور میری بات کو ترجیح نہ دی، اگلے دن وَصَاحِبُكَ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ وَإِنْ میں آیا تو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر بیٹھے رو أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لبُكَائِكُمَا فَقَالَ رہے تھے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي بتائے ! کس چیز نے آپ کو اور آپ کے ساتھی کوڑ لایا لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَهْذِهِمُ ہے؟ اگر مجھے رونا آیا تو میں بھی روؤں گا وگرنہ میں الْفِدَاءَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ آپ دونوں کے رونے کی طرح رونے کی صورت هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِيِّ الله بتاؤں گا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے رونے کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَلْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وجہ یہ ہے جو تمہارے ساتھیوں نے میرے سامنے ان مَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى سے فدیہ لینے کی تجویز پیش کی تھی۔میرے سامنے ان يُذْخِنَ فِي الْأَرْضِ إِلَى قَوْله فَكُلُوا مِمَّا کا عذاب اس درخت سے زیادہ قریب پیش کیا گیا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا فَأَحَلَّ اللهُ الْغَنِيمَةَ ہے جو درخت اللہ کے نبی ﷺ کے قریب ہی تھا۔لَهُمْ [4588] 1 : اس روایت کا یہ حصہ بخاری میں نہیں ہے۔2 (الانفال 68 تا 70) اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ترجمہ کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کے بغیر قیدی بنائے۔آیت کے اس حصہ تک پس جو مال غنیمت تم حاصل کرو، اس میں سے حلال اور پاکیزہ کھاؤ 2 پس اللہ نے اُن کے لئے غنیمتیں جائز کر دیں۔