صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 152 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 152

صحیح مسلم جلد نهم 152 كتاب الجهاد والسير الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَسْتَدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ مشرکوں کے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا اور وہ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ (مشرک) اس کے آگے تھا کہ اس نے اوپر سے کوڑا فَوْقَهُ وَ يَقُولُ أَقْدِمُ حَيْرُومُ لگنے کی اور گھوڑ سوار کی آواز سنی۔وہ کہہ رہا تھا حیزوم آگے فَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًّا پڑھو! اس نے اپنے آگے مشرک کی طرف دیکھا۔وہ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطمَ أَنْفُهُ وَشَقَّ (مشرک) پشت کے بل گرا۔اس نے اس کو دیکھا تو اس وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ فَاحْضَرَّ ذَلِكَ کی ناک پر زخم تھا اور اس کا چہرہ کوڑے کی مار سے پھٹا ہوا أَجْمَعُ فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَحَدَّثَ بِذَلِكَ تھا اور اس وجہ سے اس پر نیل پڑ گیا تھا۔وہ انصاری آیا رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اور اس نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی۔آپ نے صَدَقْتَ ذَلكَ مِنْ مَدَد السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فرمایا تو نے درست کہا۔یہ تیسرے آسمان سے اترنے فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ قَالَ والى د تھی۔انہوں نے اس دن ستر کوقتل کیا اور ستر کو أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا أَسَرُوا قیدی بنایا۔راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباس نے کہا الْأَسَارَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جب انہوں نے قیدیوں کو پکڑا۔رسول اللہ علیہ نے وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے فرمایا ان قیدیوں کے الْأَسَارَى فَقَالَ أَبُو بَكْرِ يَا نَبِيَّ اللهِ هُمْ بَنُو بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو بکر نے الْعَمِّ وَالْعَشيرَة أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فَدْيَةٌ عرض کیا اے اللہ کے نبی ! وہ ہمارے چچا زاد اور رشتہ فَتَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ دار ہیں۔میرا خیال ہے آپ اُن سے فدیہ لے يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی ہیں۔وہ ہمارے لئے ان کفار کے مقابلہ میں قوت کا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ باعث ہوگا۔اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اسلام قُلْتُ لَا وَالله يَا رَسُولَ الله مَا أَرَى الَّذِي کی طرف رہنمائی فرمائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رَأَى أَبُو بَكْرٍ وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا اے ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ نہیں ، یا رسول اللہ! اللہ کی قسم میری وہ رائے نہیں ہے فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنِّي مِنْ فُلَانِ نَسِيباً جو ابو بکر کی رائے ہے۔بلکہ میری رائے یہ ہے کہ لِعُمَرَ فَأَصْرِبَ عُنْقَهُ فَإِنْ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ آپ انہیں ہمارے سپرد کر دیں۔ہم ان کی گردنیں مار