صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 151
صحیح مسلم جلد نهم 151 كتاب الجهاد والسير يَقُولُ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا اور آپ کے صحابہ تین سو انیس تھے۔اللہ کے نبی کو حَدَّثَنَا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ح و زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ نے قبلہ کی طرف منہ کیا پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ اور اپنے رب کو بلند آواز سے پکارتے رہے اے اللہ ! حَدَّثَنَا عَكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ جو تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے پورا فرما اے اللہ ! هُوَ سَمَاك الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ مجھے عطا فرما۔اے عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ اللہ ! اگر تو نے مسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک کر دیا تو زمین ! لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔قبلہ کی طرف منہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفَ کئے دونوں ہاتھ پھیلائے آپ مسلسل اپنے رب کو وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا بلند آواز سے پکارتے رہے یہانتک کہ آپ کی چادر فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ کے کندھے سے گر گئی۔حضرت ابو بکر آپ کے الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ اللَّهُمَّ پاس آئے اور آپ کی چادر اٹھائی اور آپ کے أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدَتَنِي اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي کندھوں پر ڈال دی پھر آپ رسول اللہ ﷺ کو پیچھے اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ سے چمٹ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی! آپ کی الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ فَمَا زَالَ يَهْتِفُ اپنے رب کے حضور الحاج سے بھری ہوئی دعا آپ بِرَبِّهِ مَاذَا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ کے لئے کافی ہے۔وہ آپ سے کئے گئے وعدے رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ ضرور پورے فرمائے گا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ نازل فرمائی (یاد کرو) جب تم اپنے رب سے فریاد کر وَرَائِهِ وَقَالَ يَا نَبِيَّ اللهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رہے تھے اس نے تمہاری التجا کو قبول کر لیا (اس وعدہ رَبَّكَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِرُ لَكَ مَا وَعَدَكَ فَأَنْزَلَ اللهُ کے ساتھ ) کہ میں ضرور ایک ہزار قطار در قطار عَزَّ وَجَلَّ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ فرشتوں سے تمہاری مددکروں گا۔پس اللہ نے ملائکہ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ کے ذریعہ آپ کی مدد فرمائی۔مُرْدِفِينَ فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلَائِكَةِ قَالَ أَبُو زُمَيْلِ راوی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عباس نے بتایا کہ فَحَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسِ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ اس اثناء میں کہ اس دن مسلمانوں میں سے ایک آدمی