صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 147
صحیح مسلم جلد نهم 147 كتاب الجهاد والسير يرَاثَهُمَا مِنْ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپؐ کو دی ہے لیکن ہم سمجھتے تھے کہ معاملہ میں مشورہ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَان أَرْضَهُ مِنْ فَدَك لئے بغیر انفرادی طور پر فیصلہ کر دیا گیا ہے تو ہم نے وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرِ إِنِّي اپنے دل میں کچھ محسوس کیا۔مسلمان اس بات سے خوش ہو گئے اور انہوں نے کہا آپ نے درست سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بات کہی اور جب انہوں نے امر معروف اختیار کیا تو وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ لوگ حضرت علی سے تعلق رکھنے لگے۔عَنِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَعَظْمَ ایک اور روایت میں ہے حضرت عائشہؓ سے روایت حَقِّ أَبِي بَكْرٍ وَذَكَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ ہے کہ حضرت فاطمہ اور حضرت عباس ، حضرت ابو بکر مَضَى إِلَى أَبِي بَكْرِ فَبَايَعَهُ فَأَقْبَلَ النَّاسُ کے پاس رسول اللہ ﷺ کی میراث مانگنے آئے إِلَى عَلِيٌّ فَقَالُوا أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ فَكَانَ اور اس وقت وہ دونوں فدک میں آپ کی زمین اور النَّاسُ قَرِيبًا إِلَى عَلِيٍّ حِينَ قَارَبَ الْأَمْرَ خیبر میں آپ کا حصہ طلب کر رہے تھے۔ان دونوں کو حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا میں نے الْمَعْرُوفَ [4581,4580] رسول اللہ علہ سے سنا۔باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ بھی ہے کہ پھر حضرت علی کھڑے ہوئے اور حضرت ابو بکر کے حق کی عظمت بیان کی اور آپ کی فضیلت اور مسابقت کا ذکر کیا۔پھر حضرت ابو بکر کی طرف گئے اور آپ کی بیعت کی تو لوگ حضرت علی کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا أَصَبْتَ وَاَحْسَنت کے آپ نے درست کیا اور خوب کیا اور لوگ حضرت علیؓ کے قریب ہوئے جب وہ امر معروف کے قریب ہوئے۔3291{54} و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا 3291: عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبي ح و حَدَّثَنَا زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ نے انہیں بتایا کہ حضرت زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فاطمة بنت رسول ﷺ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات :3291 اطراف : مسلم: كتاب الجهاد والسير باب قول النبي ﷺ لا نورث ما تركنا فهو صدقة 3290، 3291 =