صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 146 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 146

حیح مسلم جلد نهم 146 كتاب الجهاد والسير حيم صل الله رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ پر کر لیا ہے اور ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ہے أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي سے قرابت کی وجہ سے ہمارا کوئی حق ہے۔وہ وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا حضرت ابو بکر سے گفتگو کرتے رہے یہانتک کہ عَنِ الْحَقِّ وَلَمْ أَثَرُكَ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّه مْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ حضرت ابو بکر کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔پھر جب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا حضرت ابو بکڑ نے کلام کیا تو آپ نے فرمایا اس کی صَنَعْتُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ مَوْعِدُكَ تم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ ہی ہے الْعَشِيَّةُ للبَيْعَةِ فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلَاةَ کی قرابت مجھے اپنی قرابت سے زیادہ محبوب ہے اور الظُّهَر رَقَيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ وہ اختلاف رائے جو میرے اور تمہارے درمیان ان عَلِيَّ وَتَخَلَّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اموال کے بارہ میں پیدا ہوا تو اس معاملہ میں میں اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي نے حق کی ادائیگی میں کوئی کمی نہیں کی اور میں نے کوئی طَالب فَعَظَمَ حَقٌّ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ بات جسے میں نے رسول اللہ علیہ کو کرتے دیکھا تھا عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةٌ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَلَا ترک نہیں کیا بلکہ میں نے ویسے ہی کیا۔حضرت علیؓ إنْكَارًا للذي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكنَّا كُنَّا نَرَى نے حضرت ابو بکر سے کہا بیعت کے لئے شام کا وعدہ لَنَا فِي الْأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتُبدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا ہے۔جب حضرت ابو بکر نے ظہر کی نماز پڑھائی تو أَصَبْتَ فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلَى قَرِيبًا منہ پر چڑھے۔آپ نے تشہد پڑھا اور علی کا معاملہ منبر حينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ (53) حَدَّثَنَا اور ان کے بیعت سے پیچھے رہ جانے اور ان کے اس عذر کو جو انہوں نے پیش کیا تھا بیان کیا۔پھر آپ نے بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعِ حَدَّثَنَا و قَالَ استغفار کیا اور حضرت علی بن ابی طالب نے تشہد پڑھا الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ اور حضرت ابوبکر کے حق کی عظمت بیان کی اور یہ کہ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ان کا حضرت ابو بکر کی بیعت نہ کرنا کسی حسد اور اس فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ فضیلت سے انکار کی وجہ سے نہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے استبد بكذا اى انفرد به (لسان العرب والمنجد) بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلاء ہو جاتے ہیں کہ اس في إِسْحَقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ عَنِ اختلاف کا خلافت سے کوئی تعلق ہے۔یہ اختلاف رائے صرف اموال فئے کے طرز انتظام کے بارہ میں تھا۔