صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 145
صحیح مسلم جلد نهم 145 كتاب الجهاد والسير يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ انہوں نے آپ سے بات نہ کی یہانتک کہ وفات عَلَى أَبي بَكْرِ فِي ذَلِكَ قَالَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ پاگئیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد چھ ماہ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ زندہ رہیں۔جب وہ فوت ہوئیں تو ان کے خاوند الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا حضرت على بن ابی طالب نے انہیں رات کے وقت تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِب دفن کیا اور حضرت ابو بکر کو اس کی اطلاع نہ کی اور لَيْلًا وَلَمْ يُؤذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرِ وَصَلَّى عَلَيْهَا حضرت علیؓ نے ان کی نماز جنازہ) پڑھی۔عَلِيٌّ وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ حضرت فاطمہ کی زندگی میں لوگوں کی توجہ حضرت علی فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ کی جانب تھی جب وہ وفات پاگئیں تو حضرت علی النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ لوگوں کے نزدیک اجنبی ہو گئے انہوں نے حضرت ابو بکر وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الْأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي سے مصالحت اور بیعت کا موقعہ تلاش کیا اور انہوں بَكْرٍ أَنْ الْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ كَرَاهِيَةً نے ان مہینوں میں بیعت نہیں کی تھی۔انہوں نے مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي حضرت ابوبکر کو بلا بھیجا کہ آپ میرے پاس آئیں بَكْرٍ وَاللَّهِ لَا تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ فَقَالَ اور آپ کے ساتھ اور کوئی نہ آئے۔وہ حضرت عمر بن أَبُو بَكْرٍ وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي إِنِّي خطاب کے آنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔حضرت عمر وَاللَّهِ لَاتِيَنَّهُمْ فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ نے حضرت ابو بکر سے کہا اللہ کی قسم ! آپ ان کے فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبِ ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ پاس اکیلے نہ جائیں۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا وہ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَمَا أَعْطَاكَ الله میرے ساتھ کیا کریں گے اللہ کی قسم ! میں تو ان کے وَلَمْ تَنْفَس عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ پاس جاؤں گا۔پھر حضرت ابو بکر ان کے پاس گئے۔وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ وَكُنَّا نَحْنُ حضرت علی بن ابی طالب نے تشہد پڑھا پھر کہا نَرَى لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اے ابو بکر ! ہم نے آپ کی فضیلت اور جو (مقام) اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرِ اللہ نے آپ کو عطا فرمایا ہے اسے ہم نے پہچانا ہے حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا تَكَلَّمَ اور جو خیر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے ہم اس پر أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ حسد نہیں کرتے لیکن آپ نے یہ کام اکیلے اپنے طور اللَّهُ