صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 141
صحیح مسلم جلد نهم 141 كتاب الجهاد والسير أَخَذَهَا دُونَكُمْ حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ فَكَانَ رسول کو دیا ہے وہ اللہ اور رسول کے لئے ہے۔رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ راوی کہتے ہیں ) میں نہیں جانتا کہ آپ نے اس مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أَسْوَةَ الْمَالِ سے پہلے کی آیت پڑھی یا نہیں۔آپ نے فرمایا ثُمَّ قَالَ أَلشَّدُكُمُ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے اموال تمہارے السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ ذَلكَ قَالُوا نَعَمْ در میان تقسیم فرما دیئے۔اللہ کی قسم آپ نے اپنے ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا وَعَلِيًّا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ آپ کو تم لوگوں پر ترجیح نہیں دی اور نہ تمہیں چھوڑ الْقَوْمَ أَتَعْلَمَان ذَلِكَ قَالَا نَعَمْ قَالَ فَلَمَّا کروه (مال) خود لیا یہانتک کہ یہ مال باقی رہ گیا۔تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول الله لا ہے اس سے ایک سال کا خرچ لیتے تھے قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ پھر جو بچ جاتا وہ اسلامی اموال کے طرز پر رکھتے۔پھر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَانَكَ مِنَ ابْنِ فرمایا میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم أَخِيكَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثُ امْرَأَته من أَبيها سے آسمان اور زمین قائم ہیں کیا تم یہ جانتے ہو؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله انہوں نے کہا ہاں ! پھر عباس اور علی کو بھی ویسے ہی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نُورَتْ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ قسم دی جیسے ان لوگوں کو دی تھی کیا تم یہ جانتے ہو؟ فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثمًا غَادِرًا خَائِنَا وَاللَّهُ ان دونوں نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا جب يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِق بَارٌّ رَاشِدَّ تَابِعَ لِلْحَقِّ ثُمَّ رسول الله یہ فوت ہوئے حضرت ابو بکر نے فرمایا تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی میں رسول اللہ ﷺ کا ولی ہوں تو تم دونوں آئے۔تم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرِ فَرَأَيْتُمَانِي اپنے بھتیجے کا اور یہ اپنی بیوی کے لئے اس کے والد کی كَاذِبًا آلِمًا غَادِرًا حَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي میراث طلب کرنے آئے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا لَصَادِق بَارٌ رَاشِدَّ تَابِعَ لِلْحَقِّ فَوَلِيتُهَا ثُمَّ رسول الله ﷺ نے فرمایا ہے ہمارا کوئی وارث نہیں جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا ہوگا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔تم نے انہیں وَاحِدٌ فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمْ جھوٹا، گناہ گار، دھوکہ دینے والا ، خائن ٹھہرایا * اور اللہ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ جانتا ہے کہ وہ راست باز نیک ہدایت یافتہ حق کی ہو اس قسم کی وضاحت کے لئے نوٹ دیکھیں۔صفحہ نمبر 140 زیر روایت 3288 - امام وشتانی کہتے ہیں کہ بعض نسخوں میں یہ الفاظ اس طرز سے نہیں ہیں۔