صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 140
صحیح مسلم جلد نهم 140 كتاب الجهاد والسير عَبَّاسِ وَعَلِيٍّ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمَا فَقَالَ عباس اور علی کے بارہ میں کیا ارشاد ہے۔انہوں نے عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ کہا ہاں۔ان دونوں کو بھی اجازت دے دی۔هَذَا الْكَاذب الآثم الْغَادِرِ الْحَائِنِ فَقَالَ حضرت عباس نے کہا اے امیر المؤمنین آپ میرے الْقَوْمُ أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَاقْضِ بَيْنَهُمْ اور اس جھوٹے گناہگار دھوکہ باز اور خیانت کرنے وَأَرِحْهُمْ فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ والے کے درمیان فیصلہ کیجیے۔ان لوگوں نے کہا ہاں أَنَّهُمْ قَدْ كَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ اے امیر المؤمنین! ان کے درمیان فیصلہ کیجئے اور اتَّبَدَا أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ انہیں آرام پہنچائیے۔مالک بن اوس کہتے ہیں میرا السَّمَاءُ وَالْأَرْضِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ الله خیال ہے وہ اسی لئے ان سے پہلے آئے تھے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَتْ مَا حضرت عمر نے فرمایا ٹھہرو میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ قَالُوا نَعَمْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں کیا تم الْعَبَّاسِ وَعَلِيٌّ فَقَالَ أَتَشدُكُمَا بالله الذي جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارا اور شہ بإذنه تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ نہیں چلے گا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے؟ انہوں نے رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا کہا ہاں پھر آپ عباس اور علی" کی طرف متوجہ ہوئے نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ قَالَا نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ اور فرمایا میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس إِنَّ اللهَ جَلْ وَعَزَّ كَانَ حَصَّ رَسُولَهُ صَلَّی کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں۔کیا تم جانتے ہو اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بخَاصَّة لَمْ يُخصص بها که رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمار اور یہ نہیں چلے گا أَحَدًا غَيْرَهُ قَالَ مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُوله مِنْ اور جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے؟ ان دونوں نے کہا أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ مَا أَدْرِي هَلْ ہاں۔حضرت عمر نے فرمایا اللہ عز وجل نے اپنے قَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا أَمْ لَا قَالَ فَقَسَمَ رَسُولُ رسول ﷺ کے لئے ایک بات خاص کی تھی جو آپ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَكُمْ أَمْوَالَ کے علاوہ کسی کے لئے مختص نہیں ہے۔آپ نے فرمایا بَنِي النَّضِيرِ فَوَاللَّهِ مَا اسْتَأْثَرَ عَلَيْكُمْ وَلَا جو مال نئے اللہ تعالیٰ نے اہل قریٰ میں سے اپنے شرح نووی میں لکھا ہے کہ هذا الكَلَامُ لَا يَلِيقُ مِنْ مِثْلِ الْعَبَّاسِ۔۔۔وَلَعَلَّهُ وَهُمُ الرَّاوِى - كه يه كلام حضرت عباس کے شایان نہیں غالبا راوی کا وہم ہے۔