صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 134 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 134

صحیح مسلم جلد نهم 134 كتاب الجهاد والسير اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ ادْفَعُهُ إِلَيْهِ پایا۔آپ نے فرمایا وہ اسے دے دو۔حضرت خالد فَمَرَّ خَالِدٌ بِعَوْفِ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ هَلْ حضرت عوف کے پاس سے گذرے تو انہوں أَنْجَرْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ ) حضرت عوف ) نے ان کی چادر کھینچی اور کہا کیا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ میں نے تم سے رسول اللہ علہ سے جو بات ذکر کی الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَغْضِبَ فَقَالَ لَا تھی میں نے ٹھیک ٹھیک نہیں بتائی تھی۔اس کی بات تُعْطَه يَا خَالِدُ لَا تُعْطه يَا خَالِدُ هَلْ أَنْتُمْ رسول الله لا نے سن لی تو ناراض ہوئے۔اے تَارِكُونَ لِي أَمَرَائِي إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ خالد سے نہ دو اے خالد سے نہ دو۔کیا تم میرے كَمَثَلِ رَجُلِ اسْتَرْعِيَ إِبلا أَوْ غَنَمًا فَرَعَاهَا لئے میرے امراء کو چھوڑو گے ( نہیں )۔تمہاری اور ثُمَّ تَحَيَّنَ سَفْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا فَشَرَعَتْ ان کی مثال تو اس شخص کی طرح ہے جس نے اونٹ یا فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَكَتْ كَدْرَهُ فَصَفْرُهُ بکریاں چرانے کے لئے لیں اور انہیں چرایا اور پھر لَكُمْ وَكَدْرُهُ عَلَيْهِمْ (44) و حَدَّلَنِي زُهَيْرُ انہیں پانی پلانے کا وقت آیا تو انہیں حوض پر لایا۔بْنُ حَرْب حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلَم حَدَّثَنَا انہوں نے شروع کیا اور اس کا صاف پانی پی لیا اور صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ گدلا چھوڑ دیا تو صاف تمہارے لئے ہوا اور گدلا اُن جُبَيْر بن نُفَيْر عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْن مَالك أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكَ کے لئے۔عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ غزوہ موتہ میں حضرت زید بن الْأَشْجَعِي قَالَ خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُوْتَةَ وَرَافَقَني حارثہ کے ساتھ گئے تھے میں بھی ان کے ساتھ گیا تھا اور یمن سے مدد قبیلہ کا ایک آدمی میرا رفیق تھا اور مَدَدي مِنَ الْيَمَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ نبی ﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی سوائے اس کے کہ وہ روایت میں کہتے ہیں کہ عوف کہتے ہیں کہ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ في الحديث قَالَ عَوْفٌ فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ میں نے کہا کہ اے خالد ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَب لِلْقَاتِلَ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ [4571,4570] رسول اللہ علیہ نے سامان کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔لیکن میں نے اس مال کو بہت زیادہ سمجھا۔