صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 131
صحیح مسلم جلد نهم 131 كتاب الجهاد والسير فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ گیا۔پھر آپ نے تیسری بار یہی بات کہی میں کھڑا ہوا فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْل عَاتقه وَأَقْبَلَ عَلَيَّ پھر رسول الله علی نے فرمایا اے ابو قتادہ کیا بات فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ہے؟ میں نے آپ کے سامنے ساری بات بیان کی۔ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحقِّتُ عُمَرَ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! انہوں بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَا لِلنَّاسِ فَقُلْتُ أَمْرُ الله نے سچ کہا اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے۔ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ آپ انہیں اپنا حق چھوڑنے پر راضی کر دیں۔حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ ابو بکر نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! آپ کبھی بھی یہ قصد عَلَيْهِ بَيْنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ نہیں کریں گے۔اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلكَ الله اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے اور حضور فَقَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ تمہیں اس کا سامان دے دیں۔رسول اللہ علیہ نے جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ فرمایا انہوں نے سچ کہا پس تم وہ ان (ابو قتادہ) کو رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ يَا دے دو تو اس نے مجھے دے دیا۔وہ کہتے ہیں میں أَبَا قَتَادَةَ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ نے زرہ بیچ دی اور اس سے بنو سلمہ (کے علاقہ میں ) مِنَ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ سَلَبُ ذَلِكَ ایک باغ خریدا۔یہ پہلا مال ہے جو میں نے اسلام الْقَتيل عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقْهِ وَقَالَ أَبُو میں بنایا۔بَكْرِ الصِّدِّيقُ لَا هَا اللَّهِ إِذَا لَا يَعْمِدُ إِلَی ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا أَسَد مِنْ أُسَدِ اللهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ ہرگز نہیں، آپ قریش کے ایک لگڑ بگڑ کو نہیں عطا رَسُوله فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ فَقَالَ رَسُولُ الله کریں گے اور اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ فَأَعْطه إِيَّاهُ چھوڑ دیں گے۔اسی طرح اس روایت میں فَإِنَّهُ کے فَأَعْطَانِي قَالَ فَبِعْتُ الدَّرْعَ فَابْتَعْتُ به الفاظ نہیں ہیں۔مَحْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالِ تَأَكَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلَّا لَا يُعْطِيهِ أَضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ