صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 125 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 125

صحیح مسلم جلد نهم 125 كتاب الجهاد والسير لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ فَقَالَ فِيكُمْ غُلُولٌ انہیں فتح عطا فرمائی۔آپ نے فرمایا پھر انہوں نے مالِ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَة رَجُلٌ فَبَايَعُوهُ غنیمت جمع کیا۔آگ اسے کھانے آئی مگر کھانے سے فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلِ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ رُک گئی۔اُس (نبی) نے کہا تم میں بددیانتی ہے۔تم فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ فَبَايَعَتْهُ قَالَ فَلَصِقَت بِیدِ میں سے ہر قبیلہ کا ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے۔تو رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فَقَالَ فِيكُمُ الْعُلُولُ أَنتُمْ انہوں نے بیعت کی۔ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ عَلَلْتُمْ قَالَ فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْس بَقَرَة من سے چمٹ گیا انہوں نے فرمایا تم میں بددیانتی ہے۔ذَهَبٍ قَالَ فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ پس تمہارا قبیلہ مجھ سے بیعت کرے پس اس بالصَّعِيدِ فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ فَلَمْ تَحلَّ (قبیلہ) نے بیعت کی۔آپ نے فرمایا تو دو یا تین الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ آدمیوں کے ہاتھ سے ان کا ہاتھ چمٹ گیا۔انہوں نے وَتَعَالَى رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيِّبَهَا فرمایا تم میں بددیانتی ہے تم نے بد دیانتی کی ہے۔آپ نے فرمایا پھر انہوں نے اس (نبی) کو بیل کے سر کے برابر سونا نکال کر دیا۔آپ نے فرمایا پھر انہوں نے اسے مال (غنیمت) میں رکھا اور وہ ایک کھلے میدان میں تھا۔پس آگ آئی اور اسے کھا گئی ہم سے پہلے کسی کے لئے غنیمتیں جائز نہیں تھیں۔(ہمارے لئے ) یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور ہمارا بجز دیکھا۔اسے ہمارے لئے طیب بنا دیا۔لَنَا [4555] [12]14: بَاب الْأَنْفَالِ غنائم کا بیان 3274{33} و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ۔حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا :3274 مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت : أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ کرتے ہیں کہ میرے والد نے شمس میں سے ایک 3274 : اطراف مسلم كتاب الجهاد والسير باب الانفال 3275 كتاب فضائل صحابة في فضل سعد بن ابی وقاص 4418 تخريج : ترمذى كتاب التفسير باب ومن سورة الانفال۔۔3079 ابوداؤد كتاب الجهاد باب في النفل 2737 ، 2740