صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 107
صحیح مسلم جلد نهم 107 كتاب الجهاد والسير الله بْنُ عُمَرَ وَكَانَ فِي ذَاكَ الْجَيْشِ ذَاكَ الْجَيْش و سے یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن عمر نے بیان کی اور حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي وہ اس لشکر میں شامل تھے۔عَدِي عَنِ ابْنِ عَوْنِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ایک اور روایت میں جویریہ بنت حارث کا ذکر ہے وَقَالَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَلَمْ اور اس میں راوی نے شک نہیں کیا۔يَشك [4520۔4519] [2]4: بَاب : تَأْمِيرُ الْإِمَامِ الْأُمَرَاءَ عَلَى الْبُعُوثِ وَوَصِيَّتُهُ إِيَّاهُمْ بِآدَابِ الْغَزْرِ وَغَيْرِهَا باب امام کا شکروں پر امیر مقرر کرنا اور ان کو غزوہ کے آداب وغیرہ کی تاکید کرنا 3247{2} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ 3247 سليمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ سُفْيَانَ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں رسول اللہ ہے جب لشکریا ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مہم پر کوئی امیر مقرر فرماتے تو خاص اسے اللہ کا تقوی آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً ح اختیار کرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ {3} و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ وَاللَّفْظُ بھلائی کی تاکید فرماتے۔پھر آپ فرماتے اللہ کے لَهُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ نام کے ساتھ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ جو اللہ کا انکار کرتے ہیں۔جنگ کرو اور خیانت نہ کرنا، سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ بد عہدی نہ کرنا اور مثلہ نہ کرنا اور کسی بچہ کوقتل نہ کرنا۔الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا اور جب تمہارا اپنے مشرک دشمنوں سے مقابلہ ہو تو عَلَى جَيْشٍ جَيْشِ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ اُنہیں تین باتوں کی دعوت دو۔پس ان میں سے جو 3247 : تخریج : ترمذی کتاب الديات باب ما جاء في النهي عن المثلة 1408 كتاب السير باب ما جاء في وصية رسول الله في القتال۔۔1617 ابوداؤد كتاب الجهاد باب في دعاء المشركين 2612 ، 2613 أبن ماجه كتاب الجهاد باب وصية الامام 2858 قبل الله مثلہ لاش کی بے حرمتی اور ناک کان وغیرہ کاٹنے کا رواج عرب میں تھا۔اس سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے۔