صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 108
مسلم جلد نهم 108 كتاب الجهاد والسير بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا بھی وہ تمہاری طرف سے قبول کریں وہ اُن سے قبول الله ثُمَّ قَالَ اغْرُوا بِاسْمِ في سبيل الله کرلو اور ان سے رُک جاؤ۔انہیں اسلام کی طرف بُلاؤ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بالله اغْرُوا وَلَا تَغْلُوا وَلَا اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان سے قبول کر لو اور اُن تَعْدِرُوا وَلَا تَمْكُلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَإِذَا سے رُک جاؤ۔ان سے اپنے علاقہ سے مہاجرین کے لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى علاقہ کی طرف منتقل ہونے کا مطالبہ کرو اور انہیں بتاؤ ثَلَاثَ حَصَالَ أَوْ خِلَال فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوكَ کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لئے بھی وہی فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى حقوق ہوں گے ) جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر بھی الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ وہی (فرائض ) ہونگے جو مہاجرین کے ہیں اور اگر وہ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ ان سے منتقل ہونے سے انکار کریں تو انہیں بتاؤ کہ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ ان کا معامله بدوی مسلمانوں کا سا ہوگا۔ان پر بھی اللہ فَعَلُوا ذَلِكَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ کا حکم ویسے ہی جاری ہوگا جیسے مومنوں پر نافذ ہے اور مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا انہیں غنیمت اور فئے سے کچھ نہیں ملے گا سوائے اس مِنْهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔اگر وہ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي (اس سے) بھی انکار کریں تو ان سے جزیہ طلب کرو يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي اور اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان سے قبول کرو اور الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْء شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ ان سے رُک جاؤ اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ فَإِنْ طلب کرو اور ان سے لڑائی کرو اور اگر تم قلعہ والوں کا هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ محاصرہ کرو اور وہ تم سے اللہ اور اس کے نبی کی ذمہ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ وَإِذَا داری مانگیں تو تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کی ذمہ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنِ فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ داری نه دو بلکہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ذمہ داری دو لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ کیونکہ اگر تم اپنی یا اپنے ساتھیوں کی ذمہ داری کو پورا الله وَلَا دَمَّةَ نَبيّه وَلَكِن اجْعَلْ لَهُمْ دَمَّتَكَ نہ کر سکو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اللہ اور اس کے وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ فَإِنَّكُمْ أَنْ تُحْفِرُوا ذِمَمَكُمْ رسول کی ذمہ داری پوری نہ کرو۔اور جب تم کسی قلعہ