صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 104
صحیح مسلم جلد نهم 104 كتاب اللقطة اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ انتظام کا کہہ دیں جو مہمان کے لئے مناسب ہے تو بمَا يَنْبَغِي للصَّيْف فَاقْبَلُوا فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا اسے قبول کرو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان سے مہمانداری فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الصَّيْف الذي يَنْبَغِي كا حق جو ان کے مناسب حال ہے لے لو لَهُمْ [4516] [4]1: بَاب : اسْتِحْبَابُ الْمُوَاسَاةِ بِفُضُولِ الْمَالِ باب اپنی بنیادی ضروریات سے ) زائد اموال کے ذریعہ ( لوگوں سے ) ہمدردی کرنے کا مستحب ہونا 3244{18} حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوحَ حَدَّثَنَا 3244 حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے وہ أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِید کہتے ہیں ایک سفر میں ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرِ مَعَ النَّبِيِّ ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار آیا۔راوی کہتے ہیں اس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا۔رسول اللہ علی رَاحِلَةِ لَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِينًا نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد سواری ہے وہ اسے وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ دے دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرِ فَلْيَعُدْ بِهِ پاس زائد کھانا ہے، وہ اسے دے دے جس کے پاس عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ کھانا نہیں ہے۔راوی کہتے ہیں آپ نے اموال کی زَادِ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ قَالَ فَذَكَرَ بہت کی اقسام کا ذکر فرمایا یہانتک کہ ہم نے خیال کیا کہ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا ہم میں سے کسی کا زائد مال پر کوئی حق نہیں ہے۔حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلِ [4517]۔حضور ﷺ اور آپ کے خلفاء نے جب مختلف علاقوں کے جارحانہ حملوں کے مقابلہ میں فوجی کا روائی کی اور ان علاقوں کو فتح کیا تو ان کو کس قسم کی سزا نہیں دی گئی نہ ہی کوئی قتل عام یا خونریزی کی گئی نہ ہی ان کے لیڈروں کو قید و بند کی سزادی گئی (جیسے مثلاً جنگ عظیم دوئم میں اتحادیوں نے جرمن قائدین کو لمبی قید کی سزادی) صرف اس زمانہ کے عام دستور کے مطابق ان سے یہ معاہدہ کیا جاتا تھا جب ان کے علاقہ میں کوئی لشکر کسی دفاعی کاروائی کے لئے جائے گا تو ایک دن رات وہ علاقہ ان کی ضیافت کا انتظام کرے گا۔3244 : تخريج ابو داؤد كتاب الزكاة باب في حقوق المال 1663