صحیح مسلم (جلد ہشتم) — Page 248
تیح مسلم جلد هشتم 248 كتاب الايمان نَفْسِهِ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فرمایا تھا۔میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہ میں نے سنا فَأَخْبَرْتُهُمْ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ که بلال مجھے پکار رہے ہیں اے عبد اللہ بن قیس ! میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَلْبَتْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ نے انہیں جواب دیا۔انہوں نے کہا رسول اللہ ہے بِلَالًا يُنَادِي أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْس فَأَجَبْتُهُ کی خدمت میں حاضر ہو، حضور تمہیں یاد فرمار ہے فَقَالَ أَجِبْ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہیں۔میں جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ الله حاضر ہوا تو آپ نے ان چھ اونٹوں کے بارہ میں جو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ هَذَيْن آپ نے اس وقت سعد سے خریدے تھے فرمایا یہ الْقَرِينَيْنِ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ جوڑی اور یہ جوڑی اور یہ جوڑی لے لو اور ان کو اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور کہو کہ اللہ یا فرمایا اللہ لستَّة أَبْعَرَة ابْتَاعَهُنَّ حينئذ مِنْ سَعْدِ فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ أَوْ کا رسول تمہیں یہ سواریاں دیتے ہیں اور ان احمد صلى الله لرحم کو سواری کے لئے استعمال کرو۔حضرت ابو موسیٰ * قَالَ إِنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتے ہیں میں ان کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ فَارْكَبُوهُنَّ قَالَ أَبُو گیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں یہ سواری کے مُوسَى فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي بِهِنَّ فَقُلْتُ لتے دیئے ہیں لیکن اللہ کی قسم ! میں تمہیں چھوڑوں گا إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نہیں یہانتک کہ تم میں سے کوئی میرے ساتھ ان يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاء وَلَكِنْ وَاللَّهُ لَا لوگوں کے پاس چلے جنہوں نے رسول اللہ علے کی أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ بات سنی تھی جب میں نے تمہارے لئے آپ سے مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سوال کیا تھا اور آپ کا پہلی مرتبہ نہ دینا اور پھر بعد وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلْتُهُ لَكُمْ وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ میں مجھے دے دینا ( سنا اور دیکھا تھا۔) یہ نہ سمجھ لینا ثُمَّ إِعْطَاءَهُ إِيَّايَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا تَظُنُّوا أَنِّي کہ میں نے تم سے کوئی ایسی بات کہی ہے جو حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ إِنَّكَ رسول الله هلال نے نہیں فرمائی تھی۔انہوں نے عِنْدَنَا لَمُصَدَّقَ وَلَتَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ فَانْطَلَقَ کہا بخدا آپ ہمارے نزدیک قابل اعتبار ہیں مگر پھر أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوُا الَّذِينَ بھی ہم وہ ضرور کریں گے جو آپ چاہتے ہیں۔پھر سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت ابوموسی اپنے ساتھ ان میں سے بعض لوگوں سمع