صحیح مسلم (جلد ہشتم) — Page 236
صحیح مسلم جلد هشتم 236 كتاب النذر امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأُصِيبَتْ الْعَصْبَاءُ ہوں مجھے پانی پلائیں۔آپ نے فرمایا یہ ( تو تمہاری فَكَانَتْ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ وَكَانَ الْقَوْمُ ضرورت ہے۔پھر دو آدمیوں کے عوض اسے آزاد يُرِيحُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ يَدَيْ بُيُوتِهِمْ فَانْفَلَتَت کر دیا گیا۔راوی کہتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت قید ذَاتَ لَيْلَة مِنْ الْوَثَاقِ فَأَتَتْ الإِبلَ فَجَعَلَتْ ہوگئی اور عضباء (اونٹنی) بھی پکڑی گئی۔وہ عورت إِذَا دَنَتْ مِنْ الْبَعِيرِ رَغَا فَتَتْرُكُهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ بیڑیوں میں تھی اور وہ لوگ اپنے مویشی اپنے گھروں إلَى الْعَصْبَاء فَلَمْ تَرْغُ قَالَ وَنَاقَةٌ مُنَوَّقَةٌ کے سامنے رات کو رکھتے تھے۔ایک رات وہ عورت فَقَعَدَتْ فِي عَجْزِهَا ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ بندھنوں سے چھٹ گئی۔وہ اونٹوں کے پاس آئی وَنَذِرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ قَالَ جب بھی وہ کسی اونٹ کے قریب آتی تو وہ بلبلاتا اور وہ وَنَذَرَتْ للَّه إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا اسے چھوڑ دیتی یہانتک کہ وہ عضباء کے پاس پہنچی وہ فَلَمَّا قَدَمَتْ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ فَقَالُوا نہیں بلبلائی۔راوی کہتے ہیں اور وہ سدھائی ہوئی الْعَصْبَاءَ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ او لی تھی وہ عورت اس کی پشت پر سوار ہو گئی اور اسے وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا نَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللهُ انگیخت کیا اور وہ چل پڑی۔ان لوگوں کو ( اس کے عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی بھاگنے کا علم ہو گیا۔انہوں نے اسے پکڑنا چاہا۔اس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ نے انہیں عاجز کر دیا۔راوی کہتے ہیں کہ اس عورت سُبْحَانَ اللَّهِ بِئْسَمَا جَزَتْهَا نَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نے اللہ کی خاطر نذر مانی کہ اگر اللہ سے اس اونٹنی کے نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَدْرِ فِي ذریعہ نجات دے گا تو وہ ضرور اس کو ذبح کر دے گی۔مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ وَفِي رِوَايَةٍ جب وہ مدینہ آئی اور لوگوں نے اسے دیکھا تو کہا یہ ابْنِ حُجْرٍ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو رسول الله ﷺ کی اونٹنی عضباء ہے۔وہ عورت کہنے الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ لگی اس نے تو نذر مانی ہے کہ اگر اللہ اسے اس اونٹنی حَدَّثَنَا ح و إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي کے ذریعہ نجات دے گا تو وہ اس کی قربانی کرے گی۔عُمَرَ عَنْ عَبْد الْوَهَّابِ الثَّقَفِي كِلَاهُمَا عَنْ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے یہ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ ساری بات بیان کی۔آپ نے فرمایا سبحان اللہ ! اس مراد یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اس شخص کی یہ ضرورت پوری فرمائی۔