صحیح مسلم (جلد ہشتم) — Page 237
صحیح مسلم جلد هشتم 237 كتاب النذر حَمَّادٍ قَالَ كَانَتِ الْعَصْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ عورت نے اس اونٹنی کو کتنا برا بدلہ دیا ہے یہ نذر مان کر عُقَيْلِ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ کہ اگر اللہ نے اس اونٹنی کے ذریعہ اسے بچایا تو وہ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَأَتَتْ عَلَى نَاقَة ذَلُول اسے ذبح کر ڈالے گی۔کوئی نذر خدا کی نافرمانی میں مُجَرَّسَة وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ وَهِيَ نَاقَةُ پوری نہ کی جائے اور نہ ہی اس میں نذر جائز ہے جس مُدَرِّبَةٌ [4246,4245] کا بندہ مالک نہیں۔ایک روایت میں ( لَا وَفَاءَ لِنَذْرِ فِي مَعْصِيَةٍ کی بجاۓ ) لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ کے الفاظ ہیں۔ایک اور روایت میں ہے کہ عضباء اونٹنی بنو تحقیل کے ایک شخص کی تھی اور وہ حج کرنے والوں کی سب سے آگے نکل جانے والی سواریوں میں سے تھی۔اس روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ (عورت) ایک سدھائی ہوئی اونٹنی پر سوار تھی جس کے گلے میں گھنٹی تھی۔اسی طرح اس روایت میں ( نَاقَةٌ مُنَوَّقَةٌ کی بجائے ) نَاقَةٌ مُدَرَّبَةُ کے الفاظ ہیں کہ وہ اونٹنی تربیت یافتہ تھی۔[4]4: باب مَنْ نَذَرَ أَنْ يَمْشِي إلى الكعبة اس کے بارہ میں بیان جس نے پیدل چل کر کعبہ جانے کی نذرمانی 3086{9} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ 3086 : حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ درمیان سہارا دے کر لے جایا جارہا تھا۔آپ نے لَهُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا فرمایا اسے کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا اس نے نذرمانی حُمَيْدٌ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنْ النَّبِيِّ ہے کہ چل کر ( بیت اللہ ) جائے گا۔آپ نے فرمایا 3086 : اطراف مسلم كتاب النذر باب من نذران يمشى الى الكعبة 3087 ، 3088 =