صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 70
صحیح مسلم جلد هفتم 70 كتاب النكاح عَلَى صلى الله لْيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ فَتَقُلُوا عَلَى وقت زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا۔وہ کہتے ہیں ان رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے گھر میں بیٹھ کر رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ باتیں کرنے لگے اور رسول اللہ ہی بیٹھے ہوئے نِسَائِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ الله تھے۔اور آپ کی زوجہ مطہرہ دیوار کی طرف منہ کر کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ ظَنُّوا أَنَّهُمْ بیٹھی ہوئی تھیں۔رسول اللہ ﷺ پر یہ لوگوں کا طرز قَدْ تَقُلُوا عَلَيْهِ قَالَ فَابْتَدَرُوا الْبَابَ عمل گراں گزرا۔اور رسول اللہ ﷺ باہر تشریف فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ وَجَاءَ رَسُولُ اللہ صَلَّی لے گئے اور اپنی بیویوں کو سلام کیا۔پھر واپس آئے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَرْحَى السِّتْرَ وَدَخَلَ جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَة فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا واپس آئے ہیں تو انہوں نے خیال کیا کہ وہ يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَيَّ وَأَنزَلَتْ هَذه الآية رسول الله ﷺ پر بوجھ ہیں۔راوی کہتے ہیں تو وہ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دروازے کی طرف لیکے اور سارے باہر چلے گئے اور وَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا رسول اللہ علیہ تشریف لائے یہائک کہ آپ نے تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى پردو ڈال دیا اور اندر تشریف لے گئے اور میں حجرہ میں طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعيتُمْ بیٹھا ہوا تھا۔آپ تھوڑی دیر بعد میرے پاس تشریف فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَالْتَشَرُوا وَلَا لائے اور یہ آیت اتری۔آپ باہر آئے اور یہ آیات لوگوں کو پڑھ کر سنائیں۔اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کر وسوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے مگر اس مُسْتَأْنسينَ لِحَدِيثِ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ إلى آخرِ الْآيَةَ قَالَ الْجَعْدُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالك أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [3507] الْآيَاتِ وَحْجِيْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ طرح نہیں کہ اس کے پکنے کا انتظار کر رہے ہو۔لیکن (کھانا تیار ہونے پر ) جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہو اور جب تم کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ۔اور وہاں (بیٹھے) باتوں میں نہ لگے رہو۔یہ (چیز) یقیناً نبی ﷺ کے لئے تکلیف دہ ہے مگر وہ تم سے (اس