صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 231
حیح مسلم جلد هفتم عباس 231 كتاب اللعان يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ واپس گئے تو ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص آیا الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ اور ان سے شکایت کرنے لگے کہ اس نے اپنی بیوی أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ کے پاس ایک شخص کو پایا ہے۔عاصم نے کہا میں اس الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ میں معاملہ میں اپنی بات کی وجہ سے ہی آزمائش میں عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ پڑا ہوں۔پھر وہ اسے رسول اللہ یو کے پاس لے مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أهله گئے اور اس نے آپ کو اس شخص کے بارہ میں بتایا رَجُلًا فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا جسے اس نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا وہ شخص زرد لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ رنگ کا دبلا پتلا، سیدھے بالوں والا تھا اور جس کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْبَرَهُ بالذِي وَجَدَ عَلَيْهِ خلاف وہ دعوی کرتا تھا کہ اس نے اس کو اپنی بیوی امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ کے پاس پایا ہے وہ موٹی پنڈلیوں والا ، گندمی رنگ اور اللحْمِ سَطَ الشَّعَرِ وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى موٹا تازہ تھا۔رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اے اللہ ! عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا آدَمَ كَثِير ( معاملہ کو) کھول دے۔پھر اس عورت نے اس شخص اللَّحْم فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے ملتے جلتے کو جنم دیا جس کا ذکر اس کے خاوند نے وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ فَوَضَعَتْ شَبيهًا بِالرَّجُلِ کیا تھا کہ اس کو اس نے اس کے پاس پایا ہے الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا فَلَا عَنَ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ایک شخص نے حضرت ابن عباس سے ایک مجلس میں فَقَالَ رَجُلٌ لابن عَبَّاس في الْمَجْلِسِ أَهِيَ کہا کیا یہ وہی عورت ہے جس کے بارہ میں التي قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ سنگسار کرتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا۔حضرت ابن فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَت تُظهِرُ عباس نے کہا نہیں وہ تو وہ عورت تھی جو اسلام میں فِي الْإِسْلَامِ السُّوءَ وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ علانیہ برائی پھیلاتی تھی۔= تخریج بخارى كتاب الطلاق لو كنت راجما بغير نية 5310 كتاب الحدود باب من اظهر الفاحشة واللطخ والتهمة بغير بينة 6855، 6856 كتاب التمني باب ما يجوز من اللو وقوله تعالى لو ان لى بكم قوة 7238 نسائی کتاب الطلاق باب اللعان بالحبل 3467 باب قول الامام اللهم بين 3470 ، 3471 ابن ماجه كتاب الحدود باب من اظهر الفاحشة 2560،2559