صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 187
صحیح مسلم جلد هفتم 187 كتاب الطلاق عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَا يَغُرَّنَّكَ أَنْ كَانَت عورتوں سے سیکھنا شروع کیا ایک دن میں اپنی بیوی جَارَتُكَ هِيَ أَوْسَمُ مِنْكِ وَأَحَبُّ إِلَى پر ناراض ہوا۔تو وہ مجھے جواب دینے لگی۔مجھے رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ منك او پر لگا کہ وہ مجھے جواب دے۔اس نے کہا آپ کو أُخْرَى فَقُلْتُ أَسْتَأْنسُ يَا رَسُولَ کیوں برا لگتا ہے کہ میں آپ کو جواب دیتی ہوں۔اللَّهِ قَالَ نَعَمْ فَجَلَسْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي اللہ کی قسم نبی ﷺ کی بیویاں آپ کو جواب دیتی الْبَيْتِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ ہیں۔ان میں سے کوئی ایک دن بھر آپ سے روٹھی إِلَّا أَهَبًا ثَلَاثَةٌ فَقُلْتُ ادْعُ اللهَ يَا رَسُولَ الله رہتی ہے۔میں نے کہا ان میں سے جس نے ایسا کیا أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ فَقَدْ وَسَّعَ عَلَى فَارِسَ وہ ناکام و نامراد رہی۔کیا ان میں سے کوئی ایک بھی وَالرُّومِ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاسْتَوَى اس بات سے امن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنے جَالسًا ثُمَّ قَالَ أَفي شَكٍّ أَنتَ يَا ابْنَ رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو۔پھر تو وہ الْخَطَّابِ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَت لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ ہلاک ہوگئی۔رسول اللہ میا نے مسکرائے میں نے عرض في الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَقُلْتُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا کیا یا رسول اللہ ! میں نے حفصہ سے کہا تم کسی دھو کے رَسُولَ اللَّهِ وَكَانَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ میں نہ رہنا تیری ہمسائی تجھ سے زیادہ خوبصورت اور عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ تجھ سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کو محبوب ہے۔آپ پھر مسکرائے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت ہے؟ میں دل بہلانے کی بات کروں۔آپ نے فرمایا ہاں میں بیٹھ گیا اور اپنا سر کمرے کو دیکھنے کے لئے اُٹھایا۔بخدا میں نے اس میں سوائے تین چھڑوں کے کوئی چیز نہیں دیکھی جس کو دیکھ کر نظر واپس آئے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ دعا کریں کہ وہ آپ کی امت کو فراخی و کشادگی عطا فرمائے۔اس نے فارس اور روم کو فراخی دے رکھی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔اس پر آپ اٹھ کر بیٹھ حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ [3695]