صحیح مسلم (جلد ہفتم)

Page 185 of 297

صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 185

صحیح مسلم جلد هفتم 185 كتاب الطلاق وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ وَلَا اس پر اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے غضب کرے يَغُرَّنَّكَ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكَ هِيَ أَوْسَمَ اور وہ ہلاک ہو جائے۔تم رسول اللہ علیہ کو جواب نہ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیا کرو اور آپ سے کچھ طلب نہ کیا کرو جو تمہاری وَسَلَّمَ مِنْكَ يُرِيدُ عَائِشَةَ قَالَ وَكَانَ لِي ضرورت ہو وہ مجھ سے مانگ لیا کرو اور تمہاری ہمسائی جَارٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالے کہ وہ تم سے زیادہ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ خوبصورت اور رسول اللہ علیہ کو تم سے زیادہ محبوب عليه يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ ہے۔آپ کی مراد حضرت عائشہ سے تھی انہوں وَغَيْرِهِ وَآتيه بمثْلِ ذَلِكَ وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنْ ( حضرت عمر) نے کہا میرا ایک انصاری ہمسایہ تھا اور غَسَّانَ تُنْعلُ الْخَيْلَ لتَغْرُونَا فَنَزَلَ صَاحبي ہم باری باری رسول اللہ علہ کے پاس آتے تھے۔ثُمَّ أَتَانِي عِشَاءً فَضَرَبَ بَابِي ثُمَّ نَادَانِي ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں آتا وہ مجھے وحی وغیرہ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ قُلْتُ کی خبر دیتا اور میں اس کے پاس اسی طرح خبر میں لاتا مَاذَا أَجَاءَتْ غَسَّانُ قَالَ لَا بَلْ أَعْظَمُ مِنْ تھا ہم باہم گفتگو کیا کرتے تھے کہ غسان کا بادشاہ ہم ذَلكَ وَأَطْوَلُ طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے جنگ کرنے کے لئے گھوڑوں کو نعل لگا رہا ہے۔وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَقُلْتُ قَدْ خَابَتْ حَفْصَةً میرا ساتھی گیا اور میرے پاس عشاء کے وقت آیا اور وَخَسِرَتْ قَدْ كُنتُ أَظُنُّ هَذَا كَانَنَا حَتَّى میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دی میں باہر اس کے إذَا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ثُمَّ پاس آیا۔اس نے کہا ایک بہت بڑا حادثہ ہوا ہے۔تَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي میں نے کہا کیا ہوا باغستان آ گیا ہے؟ اس نے کہا نہیں فَقُلْتُ أَطَلْقَكُنَّ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بلکہ اس سے بھی بڑا اور بہت بڑا۔نبی ﷺ نے اپنی وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَا أَدْرِي هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلُ فِي ازواج کو طلاق دے دی ہے میں نے کہا حفصہ نا کام هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ فَأَتَيْتُ غُلَامًا لَهُ أَسْوَدَ فَقُلْتُ ونامراد ہوگئی۔میں گمان کرتا تھا کہ ایسا ہوکر رہے گا۔اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ فَقَالَ قَدْ جب میں نے صبح کی نماز پڑھی اپنے کپڑے پہنے پھر ذَكَرْتَكَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى اترا اور حفصہ کے پاس گیاوہ رورہی تھی میں نے پوچھا انْتَهَيْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ فَجَلَسْتُ فَإِذَا عِنْدَهُ کیا رسول اللہ ﷺ نے تم سب کو طلاق دے دی