صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 181
صحیح مسلم جلد هفتم 181 كتاب الطلاق عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَيْتُ فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ فَقُلْتُ تھا اور رسول اللہ ﷺ کا سیاہ رنگ کا خادم سیڑھی کے او يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ كسْرَى وَقَيْصَرَ فِيمَا هُمَا پر تھا۔میں نے کہا یہ عمر ہے۔مجھے اجازت دی گئی۔فيه وَأَنْتَ رَسُولُ الله فَقَالَ رَسُولُ الله حضرت عمرؓ کہتے ہیں پھر میں نے رسول اللہ ہے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ سے یہ بات بیان کی۔جب میں ام سلمہ کی بات پر لَهُمَا الدُّنْيَا وَلَكَ الْآخِرَةُ (32) و حَدَّثَنَا پہنچا تو رسول اللہ علیہ نے تبسم فرمایا اور آپ ایک مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا چٹائی پر تھے۔اس کے اور آپ کے درمیان کوئی چیز نہ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ تھی اور آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جس کے اندر کھجور کی چھال تھی اور آپ کے پاؤں أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ کے پاس قرظ * کے پتوں کے ڈھیر تھے۔اور آپ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بطوله كَنَحْو حَديث کے سر کی طرف کچھ چمڑے لٹکے ہوئے تھے۔میں سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ شَأْنَ نے چٹائی کے نشانات رسول اللہ ﷺ کے پہلو پر الْمَرْأَتَيْن قَالَ حَفْصَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ وَزَادَ فِيهِ دیکھے تو میں رو دیا۔آپ نے فرمایا تجھے کس چیز نے وَأَتَيْتُ الْحُجَرَ فَإِذَا فِي كُلِّ بَيْتِ بُكَاءَ رُلایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کرنی اور قیصر کس وَزَادَ أَيْضًا وَكَانَ الَى مِنْهُنَّ شَهْرًا فَلَمَّا (آرام) میں وہ دونوں ہیں اور آپ اللہ کے رسول كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نَزَلَ إِلَيْهِنَّ ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کی تم پسند نہیں کرتے کہ ان دونوں کے لئے تو دنیا ہو اور تمہارے لئے آخرت ہو۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر کے ساتھ آیا یہانتک کہ جب ہم مر الظهر ان میں تھے اور باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ بھی ہے میں نے دو عورتوں کے بارہ میں پوچھا ( حضرت عمرؓ نے فرمایا ( حفصہ اور ام سلمہ اور اس روایت میں [3693,3692] قرظ عرب کے ایک معروف درخت کا نام ہے جس سے چمڑے کو رنگا جاتا ہے۔