صحیح مسلم (جلد ہفتم)

Page 180 of 297

صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 180

حیح مسلم جلد هفتم 180 كتاب الطلاق كُنتُ أَجِدُ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَكَانَ لِي ناز ہے۔پھر میں نکلا اور ام سلمہ کے ہاں ان سے اپنی مِنَ الْأَنْصَارِ إِذَا غِبْتُ أَتَانِي رشتہ داری کی وجہ سے گیا اور ان سے گفتگو کی۔مجھے بِالْخَبَرِ وَإِذَا غَابَ كُنتُ أَنَا آتِيهِ بِالْخَبَرِ حضرت ام سلمہ نے کہا اے خطاب کے بیٹے! مجھے تجھے وَنَحْنُ حِينَئِذٍ تَتَخَوَّفُ مَلِكًا مِنْ مُلُوكِ پر تعجب ہے تم ہر چیز میں دخل دیتے ہوئی کہ تم چاہتے غَسَّانَ ذُكرَ لَنَا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسير إِلَيْنَا فَقَدْ ہو کہ رسول اللہ ہے اور ان کی ازواج مطہرات کے امْتَلات صُدُورُنَا مِنْهُ فَأَتَى صاحبي درمیان بھی دخل اندازی کرو۔وہ کہتے ہیں انہوں نے الْأَنْصَارِيُّ يَدُقُّ الْبَابَ وَقَالَ افْتَحُ افْتَحْ مجھے ایسی گرفت کی کہ جو کچھ میں محسوس کر رہا تھا اس فَقُلْتُ جَاءَ الْغَسَّانِيُّ فَقَالَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ شدت کو نرم کر دیا اور میں ان کے ہاں سے چلا آیا اور اعْتَزَلَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انصار میں سے میرا ایک ساتھی تھا کہ جب میں أَزْوَاجَهُ فَقُلْتُ رَغِمَ أَلفُ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ ( حضور مال اللہ کی مجلس سے غیر حاضر تو وہ مجھے خبر دیتا ثُمَّ آخَذُ ثَوْبِي فَأَخْرُجُ حَتَّى جِنْتُ فَإِذَا اور جب وہ غیر حاضر ہوتا تو میں اسے آگاہ کرتا۔ان رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في دنوں ہمیں غستان کے بادشاہوں میں سے ایک مَشْرُبَة لَهُ يُرْتَقَى إِلَيْهَا بعَجَلَة وَغُلَامٌ بادشاہ کی طرف سے ڈر تھا اور ہمارے درمیان ذکر ہوا لرَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ تھا کہ وہ ہماری طرف آنے کا ارادہ رکھتا ہے اور عَلَى رَأْس الدَّرَجَة فَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ فَأَذنَ ہمارے سینے اس کی وجہ سے بھرے ہوئے تھے اس لي قَالَ عُمَرُ فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُول الله دوران میں میرا انصاری ساتھی آیا اور اور دروازہ زور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيث فَلَمَّا زور سے کھٹکھٹانے لگا۔اس نے کہا کھول کھولو، میں نے بَلَغْتُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ کہا ختانی آ گیا ہے۔اس نے کہا اس سے بھی سخت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَعَلَى حَصِيرٍ ما معاملہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج سے بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وسَادَةً مِنْ علیحدگی اختیار کر لی ہے۔میں نے کہا حفصہ اور عائشہ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَإِنَّ عِنْدَ رِجْلَيْهِ فَرَطًا کی ناک کومٹی لگے۔پھر میں نے اپنا کپڑا لیا اور نکلا مَصْبُورًا وَعِنْدَ رَأْسِهِ أَهْبًا مُعَلَّقَةً فَرَأَيْتُ أَثَرَ یہانتک که آیا اور دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے چوبارہ صل الله الْحَصِيرِ فِي جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ میں ہیں جس پر ایک سیڑھی کے ذریعہ سے چڑھا جاتا