صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 179
مسلم جلد هفتم 179 كتاب الطلاق مَا قَسَمَ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي أَمْرٍ أَأَتَمِرُهُ إِذْ وہ کہتے ہیں حضرت عمر نے کہا اللہ کی قسم جاہلیت میں قَالَتْ لِي امْرَأَتِي لَوْ صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا ہم عورتوں کو کسی شمار میں نہ لاتے تھے یہانتک کہ اللہ فَقُلْتُ لَهَا وَمَا لَك أَنْتِ وَلَمَا هَاهُنَا وَمَا نے ان کے بارہ میں نازل کیا جو نازل کیا۔اور ان تَكَلَّفُك في أَمْر أُريدُهُ فَقَالَتْ لي عَجَبًا لَكَ کے لئے حصہ مقرر کیا جو مقر ر کیا۔وہ کہتے ہیں میں اس يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ أَنتَ دوران میں کسی کام کے بارہ میں غور کر رہا تھا کہ میری وَإِنَّ ابْنَتَكَ لَتُرَاجِعُ رَسُولَ الله صَلَّى الله بیوی نے مجھے کہا آپ اس اس طرح کیوں نہیں کر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلُّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ قَالَ لیتے۔اس پر میں نے اسے کہا تمہارا اس سے کیا تعلق عُمَرُ فَآخَذُ رِدَائِي ثُمَّ أَخْرُجُ مَكَانِي حَتَّى اور تمہارا اس میں کیا عمل دخل جس کا میں ارادہ کر رہا أَدْخُلَ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا يَا بُنَيَّةُ إِنَّكَ ہوں؟ اس نے مجھے کہا اے ابن خطاب! تجھ پر تعجب لَتَرَاجِعِينَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے تو چاہتا ہے کہ تجھ سے کوئی سوال و جواب نہ کرے وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلُّ يَوْمَهُ غَضَبَانَ فَقَالَتْ اور تیری بیٹی رسول اللہ اللہ سے سوال و جواب کرتی حَفْصَةُ وَاللَّهِ إِنَّا لَمُرَاجِعُهُ فَقُلْتُ تَعْلَمِينَ أَنِّي ہے یہانتک کہ وہ دن بھر ناراض رہتے ہیں حضرت احَدِّرُكَ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَغَضَبَ رَسُولِهِ يَا بُنَيَّةُ عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی چادر لی اور مکان سے لَا يَغُرَتَكَ هَذه الَّتِي قَدْ أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا نکلا اور حفصہ کے پاس گیا اور اسے کہا اے میری وَحُبُّ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پیاری بیٹی ! تو رسول اللہ ﷺ سے سوال و جواب کرتی إِيَّاهَا ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ہے؟ یہانتک کہ وہ دن بھر ناراض رہتے ہیں۔حفصہ لِقَرَابَتِي مِنْهَا فَكَلَّمْتُهَا فَقَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ نے کہا اللہ کی قسم ! ہم آپ سے سوال و جواب کرتی عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ دَخَلْتَ فِي ہیں میں نے کہا تو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس كُلِّ شَيْ شَيْءٍ حَتَّى تَبْتَغِي أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ کے رسول کی ناراضگی سے ڈراتا ہوں اے میری الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِه قَالَ پیاری بیٹی ! تجھے وہ غلط فہمی میں مبتلاء نہ کرے جس کو فَأَخَذَتْنِي أَخَذَا كَسَرَتَنِي عَنْ بَعْضٍ مَا اپنے حسن پر اور رسول اللہ ﷺ کی محبت پر الله بخاری اور مسلم کی بعض روایات میں اس کی بجائے یہ مضمون ہے کہ ازواج مطہرات بعض دفعہ دن بھر بظاہر نظر روٹھنے کا اظہار کرتی تھیں۔