صحیح مسلم (جلد ہفتم)

Page 175 of 297

صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 175

حیح مسلم جلد هفتم 175 كتاب الطلاق عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَنَّ أَنِّي جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ اشارہ کیا کہ اوپر چڑھ آؤ۔میں رسول اللہ ﷺ کی وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ ایک چٹائی پر لیٹے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْب عُنُقهَا لَأَضْرِ بَنَّ عُنُقَهَا ہوئے تھے۔میں بیٹھ گیا۔آپ نے اپنا از ار اپنے اور وَرَفَعْتُ صَوْتِي فَأَوْمَا إِلَيَّ أَنْ ارْقَهُ فَدَخَلْتُ قریب کر لیا اور آپ پر یہی لباس تھا اس کے سوا آپ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کچھ نہ پہنے ہوئے تھے اور چٹائی نے آپ کے پہلو پر فَجَلَسْتُ نشان ڈال دیئے تھے۔میں نے رسول اللہ اللہ کے وَهُوَ مُضْطَجِعْ عَلَى حَصِيرٍ گودام میں نظر دوڑائی تو میں نے دیکھا کہ کچھ جو جو فَأَدْنَى عَلَيْهِ إِزَارَهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثْرَ فِي جَنْبِهِ فَنَظَرْتُ بَصَرِي صاع کے قریب تھے اور اسی کی مانند قرظ (درخت) کے پتے کمرہ کے ایک کو نہ میں پڑے ہوئے تھے اور چھڑے کی ایک کھال جو پوری طرح رنگی ہوئی نہیں تھی فِي خِزَانَةِ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةً مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ لٹکی ہوئی تھی۔وہ کہتے ہیں میری آنکھیں بے ساختہ الصاع وَمَثْلَهَا فَرَطًا فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ وَإِذَا آنسو بہانے لگیں۔آپ نے فرمایا اے خطاب کے أَفيقٌ مُعَلَّقٌ قَالَ فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ قَالَ مَا بیٹے ! تجھے کس چیز نے رُلایا ؟ میں نے عرض کیا اے يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ الله کے نبی! میں کیوں نہ روؤں اور اس چٹائی نے وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثْرَ فِي آپ کے پہلو پر نشانات ڈال دیئے اور یہ آپ کا جَنْبكَ وَهَدَه خَزَانَتُكَ لَا أَرَى فِيهَا إِلَّا مَا گودام ہے جس میں صرف وہی کچھ ہے جو میں دیکھ أَرَى وَذَاكَ قَيْصَرُ وَكِسْرَى فِي السَّمَارِ رہا ہوں اور قیصر و کسری پھلوں اور نہروں میں مزے وَالْأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کر رہے ) ہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں اور اس وَسَلَّمَ وَصَفْوَتُهُ وَهَذهِ خَزَائِتُكَ فَقَالَ يَا ابْنَ کے خالص اور چنیدہ ہیں اور یہ آپ کا گودام ہے۔الْخَطَّابِ أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ آپ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے ! کیا تم اس بات وَلَهُمْ الدُّنْيَا قُلْتُ بَلَى قَالَ وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ پر راضی نہیں کہ ہمارے لئے آخرت ہو اور ان کے حِينَ دَخَلْتُ وَأَنَا أَرَى فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ لئے دنیا۔میں نے کہا کیوں نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا يَشَقُّ عَلَيْكَ مِنْ جب میں آپ کے پاس آیا تھا تو میں نے آپ کے شَأْنِ النِّسَاءِ فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ چهره پر ناراضگی کے آثار پائے۔میں نے عرض کیا