صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 174
حیح مسلم جلد هفتم 174 كتاب الطلاق وَمَا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ کیا تمہارا معاملہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ تو رسول اللہ عے کو قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ تکلیف دیتی ہے۔اور اللہ کی قسم تو جانتی ہے کہ لَهَا يَا حَفْصَةُ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأَئِكَ أَنْ تُؤذي رسول الله لا تجھ سے محبت نہیں کرتے اگر میں نہ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالله ہوتا تو رسول اللہ اللہ تجھے طلاق دے دیتے۔انہوں لَقَدْ عَلِمْت أَنّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے زور زور سے رونا شروع کر دیا۔میں نے ان سے وَسَلَّمَ لَا يُحِبُّكِ وَلَوْلَا أَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُولُ کہا رسول اللہ ﷺ کہاں ہیں ؟ وہ کہنے لگیں وہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَتْ أَشَدَّ اپنے چوبارہ کے گودام میں ہیں۔میں گیا تو دیکھا الْبُكَاءِ فَقُلْتُ لَهَا أَيْنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ که رسول اللہ ﷺ کا خادم رباح چوبارہ کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ هُوَ فِي خِزَائِتِهِ فِي چوکھٹ کے کھوکھلے کئے ہوئے تنے پر ٹانگیں الْمَشْرُبَة فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلَامٍ لٹکائے بیٹھا تھا اور یہ وہ لڑا وہ لکڑی کا تنا تھا جس کے رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعدًا ذریعہ رسول اللہ پڑھتے اور اتر تے تھے۔عَلَى أَسْكُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ مُدَلِّ رِجْلَيْهِ عَلَى میں نے آواز دی کہ اے رباح! میرے لئے نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ وَهُوَ جِذْعُ يَرْقَى عَلَيْهِ رسول الله اللہ کے پاس آنے کی اجازت لو۔رباح رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْحَدِرُ نے بالاخانہ کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا مگر فَنَادَيْتُ يَا رَبَّاحُ اسْتَأذن لي عندَكَ عَلَی کچھ نہیں کہا۔میں نے پھر کہا اے رباح میرے لئے رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ رسول الله مال سے اجازت لو۔رباح نے بالا خانہ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا مگر کچھ نہ کہا پھر ثُمَّ قُلْتُ يَا رَبَّاحُ اسْتَأْذن لي عندَكَ عَلَى میں نے اپنی آواز بلند کی اور کہا اے رباح ! میرے رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ لئے رسول اللہ ا سے اجازت لو۔میرا خیال ہے رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا که رسول اللہ ﷺ نے خیال فرمایا کہ میں حفصہ کی ثُمَّ رَفَعْتُ صَوْتِي فَقُلْتُ يَا رَبَّاحُ اسْتَأْذن وجہ سے آیا ہوں۔اگر مجھے رسول اللہ ﷺے اس کی لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گردن مارنے کا حکم دیں تو میں ضرور اس کی گردن مار وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ دوں گا اور میں نے اپنی آواز بلند کی۔اس نے مجھے