صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 141
صحیح مسلم جلد هفتم 141 كتاب الرضاع وَتَلَاعِبُكَ قُلْتُ إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ فَأَحْبَبْتُ أَنْ میں نے عرض کیا بیوہ سے۔آپ نے فرمایا کسی کنورای أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ سے کیوں نہیں ؟ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔عَلَيْهِنَّ قَالَ أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ فَإِذَا قَدِمْتَ میں نے عرض کیا کہ میری کئی بہنیں ہیں اس لئے میں فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ثُمَّ قَالَ أَتَبِيعُ جَمَلَكَ نے اہا کہ میں ایسی عورت سے شادی کروں جو انہیں قُلْتُ نَعَمْ فَاسْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ثُمَّ قَدمَ اکٹھارکھے اور ان کی کنگھی چوٹی کرے اور ان کی دیکھ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدمْتُ بحال کرے۔آپ نے فرمایا تم گھر جانے والے ہو بالْغَدَاةِ فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدتُهُ عَلَى پس جب تم گھر جاؤ تو دانائی اختیار کرنا، دانائی بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ الآنَ حِينَ قَدِمْتَ قُلْتُ اختیار کرنا۔پھر آپ نے فرمایا کیا تم اپنا اونٹ پیچھ نَعَمْ قَالَ فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ فَصَلِّ گے ؟ میں نے عرض کیا جی۔تو آپ نے ایک اوقیہ رَكْعَتَيْنِ قَالَ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ (چاندی) کے عوض وہ ( اونٹ ) مجھ سے خرید لیا۔فَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لي أُوقِيَّةً فَوَزَنَ لي بلال پھر رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے اور میں صبح فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا پہنچا اور مسجد گیا تو آپ کو مسجد کے دروازہ پر پایا آپ وَلَّيْتُ قَالَ ادْعُ لِي جَابِرًا فَدَعِيتُ فَقُلْتُ نے فرمایا کیا تم اب آئے ہو؟ میں نے عرض کیا جی۔الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٍ آپ نے فرمایا اپنے اونٹ کو چھوڑ دو اور مسجد میں أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ فَقَالَ خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھو وہ کہتے ہیں میں مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی پھر میں واپس آیا تو آپ نے بلال سے فرمایا اسے ایک اوقیہ ( چاندی) تول دو بلال نے میرے لئے میزان کو جھکا کر تو لا۔وہ کہتے ہیں پھر میں چلا جب میں مڑا تو آپ نے فرمایا جابر کو میرے پاس بلاؤ مجھے بلایا گیا میں نے سوچا کہ اب آپ اونٹ مجھے واپس کر دینگے اور اس سے زیادہ مجھے کوئی اور بات نا پسند نہ تھی۔آپ نے فرمایا اپنا اونٹ لے لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہوئی۔ثَمَنُهُ [3641,3640]