صحیح مسلم (جلد ہفتم)

Page 115 of 297

صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 115

مسلم جلد هفتم 115 كتاب الرضاع صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ [3595] 2619{23} حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ 2619 حضرت ام فضل سے روایت ہے کہ ایک شخص الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا نے نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا ایک دفعہ قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دودھ پینا حرمت قائم کر دیتا ہے۔آپ نے فرمایا الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيِّ نہیں۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحَرِّمُ الْمَصَّةُ فَقَالَ ل [3596] [6]30: بَاب : التَّحْرِيمُ بِخَمْسِ رَضَعَاتٍ باب حرمت پانچ دفعہ دودھ پینے سے قائم ہوتی ہے 2620{24} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ 2620 بچی ابن سکی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مالک کے سامنے عبداللہ بن ابی بکر کی عمرہ سے یہ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ فيما روایت پڑھ کر سنائی جو حضرت عائشہ کی طرف منسوب أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتِ مَعْلُومَاتِ کی گئی تھی۔آپ فرماتی ہیں کہ جو قرآن میں نازل ہوا يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسخنَ بِخَمْسِ مَعْلُومَات دس بار با قاعدہ ( دودھ پینا تھا جو حرمت قائم کرتا تھا فَتَوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پھر یہ پانچ دفعہ با قاعدہ (دودھ) پینے (کے حکم ) سے وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ [3597] منسوخ ہو گیا۔پھر رسول اللہ علیہ کی وفات ہوگئی جبکہ یہ پانچ دفعہ کا حکم ) قرآن میں پڑھا جا تا تھا۔الله 2619 : اطراف : مسلم کتاب الرضاع باب في المصة والمصتان 2615 ، 2616 ، 2617 ، 2618 تخریج : نسائي كتاب النكاح القدر الذي يحرم من الرضاعة 3308 ابن ماجه كتاب النکاح باب لا تحرم المصة والمصتان 1940 2620 : اطراف : مسلم كتاب الرضاع باب التحريم بخمس رضعات 2621 تخریج ترمذی کتاب الرضاع باب ماجاء لا تحرم المصة والمصتان 1150 نسائى كتاب النكاح القدر الذي يحرم من الرضاعة 3307 ابو داود كتاب النكاح باب هل يحرم ما دون خمس رضعات 2062 ابن ماجه كتاب النكاح باب لا تحرم المصة والمصتان 1942 باب رضاع الكبير 1944 یہ ایک روایت ہے نہ کہ حدیث اور یہ روایت کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ آیت قرآنی إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا کے متضاد ہے۔اور اس کی سند جس رنگ میں بیان کی گئی ہے وہی اس کو مشتبہ قرار دے رہی ہے