صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 318
318 كتاب الحج نَهَارِ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ گھڑی جائز ہوئی اور یہ اللہ تعالیٰ کے قابل احترام لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفِّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِط قرار دینے کی وجہ سے قیامت تک قابل احترام ہے إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُحْتَلَى خَلَاهَا فَقَالَ اور اس کے کانٹے نہیں کاٹے جائیں گے اور نہ اس کا الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ شکار بھگایا جائے گا اور نہ اس کی گمشدہ چیز کوئی اٹھائے لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ و حَدَّثَنِي گا سوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان کرے، نہ ہی مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا اس کی گھاس کاٹی جائے گی۔حضرت عباس نے کہا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بمثله يا رسول الله ! سوائے اذخر کے کیونکہ یہ ان کے وَلَمْ يَذْكُرْ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کاریگروں اور گھروں کے استعمال کے لئے ہے۔وَقَالَ بَدَلَ الْقِتَالِ الْقَتْلَ وَقَالَ لَا يَلْتَقِطُ آپ نے فرمایا سوائے اذخر کے۔لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا [3303,3302] ایک اور روایت میں يَوْمَ خَلَقَ السَّمَواتِ وَالْاَرْضَ کے الفاظ نہیں ہیں اور القتال کی بجائے 4462399} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ۔القتل کا لفظ آیا ہے اور اسی طرح لَا يَلْتَقِطُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا کی بجاۓ لَا يَلْتَقِط لُقْطَعَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا کے الفاظ ہیں۔حَدَّثَنَا 2399 : حضرت ابو شریح عدوی سے روایت ہے لَيْتْ عَنْ سَعِيد بْن أَبي سَعِيدِ عَنْ أَبِي کہ انہوں نے عمرو بن سعید کو کہا جبکہ وہ مکہ کی طرف شُرَيْحِ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ لشکر بھیج رہا تھا اے امیرا! مجھے اجازت دیں، میں آپ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ الذَنْ لِي أَيُّهَا کو ایک ایسی بات بتاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ نے الْأَمِيرُ أحَدَّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ لکہ کے اگلے دن فرمائی تھی۔جسے میرے کانوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْح سنا اور میرے دل نے جسے محفوظ رکھا اور میری آنکھوں سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ نے آپ کو دیکھا جب آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔آپ 2399 : اطراف مسلم كتاب الحج باب تحريم مكة وصيدها وخلاها وشجرها۔۔۔2398 ، 2400 ، 2401 باب فضل المدينة ودعاء النبي 2411 ، 2412 =