صحیح مسلم (جلد ششم)

Page 288 of 399

صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 288

حیح مسلم جلد ششم 288 كتاب الحج إِلَى بِنَائِهِ [3245] ☆ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَكَتَبَ لوگوں کا ڈر بھی نہیں ہے راوی کہتے ہیں انہوں نے إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيحُ ابْنِ اس میں پانچ ہاتھ حجر سے بڑھا دیئے یہانتک کہ اس الزُّبَيْرِ فِي شَيْءٍ أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقرَّهُ میں سے وہ بنیا د ظاہر کر دی جسے لوگوں نے دیکھا اور وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ انہوں نے اس پر عمارت بنائی۔کعبہ کی لمبائی اٹھارہ وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ فَنَقَضَهُ وَأَعَادَهُ ہاتھ تھی۔پھر جب اضافہ ہوا تو انہوں نے اس کو کم سمجھا اور اس میں دس ہاتھ کا اضافہ کیا اور اس کے دو دروازے بنائے۔ان میں سے ایک داخلہ کا تھا اور دوسرا نکلنے کا تھا۔جب حضرت ابن زبیر کو شہید کر دیا گیا تو حجاج نے عبدالملک بن مروان کو اس کی خبر دیتے ہوئے لکھا اور اسے یہ بھی بتایا کہ ابن زبیر نے عمارت کو اس کی بنیاد پر بنایا تھا جسے مکہ کے قابلِ اعتبار لوگوں نے دیکھا تھا۔عبدالملک نے اسے لکھا کہ ابن زبیر کی ملاوٹ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں اور جو اس نے لمبائی میں اضافہ کیا ہے اسے قائم رہنے دو اور جو حصہ انہوں نے حجر ( حطیم ) سے بڑھایا ہے اسے واپس اس کی بنیاد پر لوٹا دو اور وہ دروازہ جو انہوں نے کھولا تھا اسے بند کر دو۔انہوں نے اس کو منہدم کر دیا اور اسے اس کی بنیاد پر لوٹا دیا۔2358{403} حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ :2358 عبد اللہ بن عبید کہتے ہیں کہ حارث بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عبدالله عبد الملک بن مروان کی خلافت کے زمانہ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرِ میں ان کے پاس آیا۔عبدالملک نے کہا میرا خیال 2358: اطراف مسلم كتاب الحج باب نقض الكعبة وبنائها 2353، 2354، 2355 ، 2356 ، 2357 ، 2359 باب جدر الكعبة۔۔۔2360 = ابن زبیر کے زمانہ میں اسلام پھیل چکا تھا اور یہ خطرہ کہ چونکہ لوگ نئے نئے کفر سے نکلے ہیں اس لئے ان کو ٹھوکر نہ لگے باقی نہ رہا تھا۔