صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 269
269 كتاب الحج بشأنهَا إِنْ هِيَ أَبْدعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا تو اس کے بارہ میں اچھی طرح معلوم کروں گا۔وہ فَقَالَ لَئِنْ قَدمْتُ الْبَلَدَ لَأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ کہتے ہیں جب دن چڑھا اور ہم بطحاء میں اترے تو ذَلكَ قَالَ فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ انہوں نے کہا حضرت ابن عباس کے پاس چلو، ہم قَالَ انْطَلِقُ إِلَى ابْنِ عَبَّاس نَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ ان سے بات کریں۔راوی کہتے ہیں انہوں نے قَالَ فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ فَقَالَ عَلَى الْخَبير انہیں اپنی قربانی کے جانور کی حالت بتائی۔وہ کہنے تَقَطَّتَ بَعَثَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لگے تم (حسنِ اتفاق سے ) ایک باخبر آدمی کے پاس وَسَلَّمَ بِسَتْ عَشْرَةَ بَدَنَةٌ مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ آئے ہو۔رسول اللہ علیہ نے ایک آدمی کے ساتھ سولہ 16 اونٹ روانہ کئے اور ان کی نگرانی اس کے سپرد فِيهَا قَالَ فَمَضَى ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ کی۔راوی کہتے ہیں وہ چلا گیا پھر واپس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! اگر ان میں سے کوئی تھک کر رہ جائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اسے ذبح کرو، پھر اس اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا قَالَ الحَرَّهَا ثُمَّ اصْبُعْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنتَ وَلَا أَحَدٌ کی علامت کے طور پر ) جوتے اس کے خون سے منْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى رنگین کرو اور پھر اس (خون) کو اس کے پہلو پر وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ (بھی) لگا دو اور پھر تم اور تمہارے ساتھیوں کے اہل يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا میں سے کوئی اس میں سے نہ کھائے۔إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ ایک اور روایت میں ( بست عَشْرَةَ کی بجائے ) مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ بِثَمَانَ عَشْرَةً یعنی اٹھارہ کے الفاظ ہیں۔الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حديث عَبْدِ الْوَارِثَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الحديث [3217,3216]