صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 156
الله 156 كتاب الحج حضرت ابن عمر اُن کے پاس موجود ہیں۔وہ کیوں ان سے پوچھتے نہیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کو جو پہلے گزر چکے ہیں کہ وہ جب اپنے قدم ( مکہ میں) رکھتے تھے تو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے کچھ نہ کرتے تھے۔وہ (احرام ) نہیں کھولتے تھے میں نے اپنی ماں اور خالہ کو بھی دیکھا ہے کہ جب وہ مکہ آئیں تھیں تو وہ دونوں بیت اللہ کے طواف کے علاوہ کسی چیز سے شروع نہیں کرتی تھیں اور طواف کے بعد احرام نہیں کھولتی تھیں اور مجھے میری والدہ نے بتایا کہ وہ اور ان کی بہن اور حضرت زبیر اور فلاں اور فلاں صرف عمرہ کے ارادہ سے آئے۔پھر جب انہوں نے (طواف کے بعد ) رکن یمانی کو چھوا تو احرام کھول دیا اور اس نے جو بھی اس بارہ میں کہا ہے غلط کہا ہے۔2160 {191} حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :2160: حضرت اسماء بنت ابی بکر سے روایت ہے وہ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْج ح کہتی ہیں ہم احرام باندھ کر نکلے تو رسول اللہ علے و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْب وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا نے فرمایا جس کے ساتھ قربانی ہو وہ اپنا احرام رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي باندھے رکھے اور جس کے ساتھ قربانی نہیں وہ احرام مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ کھول دے۔حضرت زبیر کے ساتھ قربانی تھی بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ انہوں نے احرام نہ کھولا۔میرے پاس قربانی نہیں اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ فَقَالَ تھی اس لئے میں نے احرام کھول دیا۔میں نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ اپنے کپڑے پہنے ، پھر میں نکلی اور (اپنے شوہر ) مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ حضرت زبیر کے ساتھ بیٹھ گئی۔انہوں نے کہا 2160 : تخریج : نسائی مناسك الحج باب ما يفعل من اهل بعمرة وأهدى 2962 ما يفعل من أهل بالحج وأهدى 2992 ابن ماجه کتاب المناسک باب فسخ الحج 2983