صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 155
155 كتاب الحج حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس آیا اور ان سے یہ ذکر کیا۔تو وہ کہنے لگے فَأَحْبَرَتْني عائشة رضي ا اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَوَّلَ يه ( سائل) کون شخص ہے؟ میں نے کہا میں نہیں بداً به حِينَ قَدمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَا مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَأَ ثُمَّ جانتا۔وہ کہنے لگے اسے کیا ہوا ہے کہ وہ خود میرے طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرِ فَكَانَ أَوَّلَ پاس سوال کرنے نہیں آتا۔میرا خیال ہے وہ کوئی شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ عراقی ہے۔میں نے کہا میں تو نہیں جانتا۔وہ کہنے غَيْرُهُ ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ لگے یقیناً وہ غلط کہتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے حج کیا فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْء بَدَأَ به الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ تھا اور حضرت عائشہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ جب لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ آپ مکہ تشریف لائے تو جس چیز سے آپ نے ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَكَانَ ابتداء کی یہ تھی کہ آپ نے وضوء کیا۔پھر بیت اللہ کا أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ به الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ طواف کیا۔پھر حضرت ابو بکر نے (اپنے زمانہ خلافت يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ میں ) حج کیا تو سب سے پہلے آپ نے بیت اللہ کا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ آخِرُ مَنْ طواف کیا اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔پھر حضرت رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُضُهَا عمر نے بھی اس طرح کیا۔پھر حضرت عثمان نے حج بِعُمْرَةٍ وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ کیا۔میں نے دیکھا کہ انہوں نے سب سے پہلے وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَعُونَ بیت اللہ کا طواف کیا پھر اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوا بِشَيْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ أَوَّلَ مِنْ پھر امیر معاویہ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بھی ایسا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَيْتُ ہی کیا۔پھر میں نے اپنے والد زبیر بن العوام کے أُمِّي وَخَالَتي حينَ تَقْدَمَان لَا تَبْدَأَ ان بشَيْءٍ ساتھ حج کیا تو سب سے پہلا کام جو انہوں نے کیا أَوَّلَ مِنْ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ثُمَّ لَا تَحلَّانَ وَقَدْ بیت اللہ کا طواف تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں ہوا اور أخبرتني أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأَختها پھر میں نے مہاجرین اور انصار کو اسی طرح کرتے وَالزَّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةِ قَطُّ فَلَمَّا دیکھا۔پھر اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوا اور سب سے مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُوا وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ آخر میں میں نے جسے یہ کرتے دیکھا وہ حضرت ابن عمرؓ تھے۔انہوں نے عمرہ سے اس کو ختم نہیں کیا۔من ذلك [3001]