صحیح مسلم (جلد ششم)

Page 147 of 399

صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 147

سحیح مسلم جلد ششم 147 كتاب الحج فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا اور اس ( بیت اللہ ) کے درمیان روک ڈالی گئی تو میں مَعَهُ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ویسا ہی کروں گا جیسا رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور الْبَيْت أَشْهدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جب کفار قریش فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَى بِالْعُمْرَةِ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے ثُمَّ قَالَ إِنْ خُلِّيَ سَبِيلي قَضَيْتُ عُمْرَتي تھے۔میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے (اپنے وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ اوپر ) عمرہ واجب کر لیا ہے۔پھر وہ چل پڑے رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ یہانتک کہ ذوالحلیفہ پہنچے اور انہوں نے عمرہ کے ثُمَّ تَلَا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ لئے احرام باندھ کر) تلبیہ کہنا شروع کیا پھر کہا اگر حَسَنَةٌ ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ میرے لئے راستہ کھلا رہنے دیا گیا تو میں عمرہ کروں گا قَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان روک پیدا کی الْعُمْرَةِ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ أَشْهِدُكُمْ گئی تو میں ویسا ہی کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ نے أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةِ فَانْطَلَقَ کیا جبکہ میں آپ کے ساتھ تھا۔پھر انہوں نے یہ حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدِ هَدْيًا ثُمَّ طَافَ لَهُمَا آیت تلاوت کی: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ۔۔۔یقینا تمہارے طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ( احزاب 22 ) ثُمَّ لَمْ يَحِلُّ مِنْهُمَا حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ پھر آپ چلتے رہے یہانتک کہ بیداء پر پہنچے تو کہا ان يَوْمَ النَّحْرِ و حَدَّثَنَاهِ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي دونوں حج وعمرہ کی ایک ہی بات ہے۔اگر میرے اور حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ أَرَادَ ابْنُ عمرہ کے درمیان کوئی روک حائل ہوئی تو میرے اور عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ حج کے درمیان بھی حائل ہوگی۔میں تمہیں گواہ ٹھہراتا وَ اقْتَصَّ الْحَدِيثَ بمثل هذه القصَّةِ وَقَالَ ہوں کہ میں نے اپنے اوپر حج کو عمرہ کے ساتھ واجب في آخرِ الْحَدِيثِ وَكَانَ يَقُولُ مَنْ جَمَعَ کیا ہے۔پھر آپ چلے یہانتک کہ آپ نے قدید بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافَ وَاحِدٌ مقام سے قربانی خریدی۔پھر انہوں نے حج وعمرہ ان وَلَمْ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا دونوں کے لئے بیت اللہ کا ایک ہی طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔پھر ان دونوں کا احرام نہ [2991,2990]