صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 122
122 كتاب الحج صلى الله وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحْدَهُ فَلَمْ يَزَلْ وَاقفًا حَتَّى گے؟ انہوں نے کہا ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پیغام أَسْفَرَ جِدًّا فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ پہنچا دیا اور حق ادا کر دیا اور خیر خواہی کی۔آپ نے اپنی وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَجُلًا شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے اور حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِیمًا فَلَمَّا دَفَعَ لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ ! رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّت به گواہ رہنا۔اے اللہ ! گواہ رہنا۔تین مرتبہ فرمایا۔پھر ظُعُنْ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ آپ نے اذان دینے کا ارشاد فرمایا پھر اقامت کا فَوَضَعَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارشاد فرمایا اور ظہر کی نماز ادا کی۔پھر اقامت کا ارشاد يَدَهُ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ فَحَوَّلَ الْفَضْلُ فرمایا اور عصر کی نماز ادا کی۔اور ان دونوں کے درمیان وَجْهَهُ إِلَى الشَّقِّ الْآخَر يَنظُرُ فَحَوَّلَ کوئی نماز نہیں پڑھی۔پھر رسول اللہ یہ سوار ہوئے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ یہانتک کہ آپ ( مزدلفہ میں ) ٹھہرنے کے مقام پر الشَّقِّ الْآخَرِ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ يَصْرِفُ پہنچے۔آپ نے اپنی اونٹنی قصواء کے سینہ کا رخ وَجْهَهُ مِنَ الشَّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ حَتَّى أَتَى بَطْنَ چٹانوں کی طرف رکھا اور اپنے سامنے چلنے والوں کا مُحَسّرٍ فَحَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ راستہ رکھا اور قبلہ کی طرف رخ کیا۔پھر آ۔الْوُسْطَى الَّتِي تَخْرُجُ عَلَى الْجَمْرَة ٹھہرے رہے یہانتک کہ سورج غروب ہوا اور کچھ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ زردی ختم ہوگئی یہانتک کہ ( سورج کی ٹکیہ غائب ہو الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَّات يُكَبِّرُ مَعَ گئی اور آپ نے اسامہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا كُلِّ حَصَاةِ مِنْهَا مِثْلِ حَصَى الْخَذْفَ رَمَى اور اسے چلایا اور قصواء کی باگ کو کھینچا حتی کہ قریب تھا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ کہ اس کا سرکجاوے کی مورک سے لگتا تھا اور آپ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمار ہے فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ تھے اے لوگو! آرام سے آرام سے ! جب آپ کسی كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قدرٍ میلے کے پاس پہنچتے اس کی باگ کچھ ڈھیلی کر دیتے فَطْبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ یہانتک کہ وہ چڑھ جاتی۔اس طرح آپ مزدلفہ شاید مورک: چمڑے کے تکیہ کی طرح زمین کے آگے کا وہ حصہ جس پر سوار اپنا پاؤں اٹھا کر رکھ لیتا ہے جب رکاب میں پاؤں رکھے رکھے تھک جاتا ہے (لسان ، منجد ، نہایہ)