صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 121
121 كتاب الحج وَنَصَحْتَ فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا لوگوں سے خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا یقیناً إلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ اللَّهُمَّ تمہارے خون اور تمہارے اموال تمہارے لئے قابلِ اشْهَدْ اللّهُمَّ اشْهَدْ ثَلَاثَ مَرَّاتِ ثُمَّ أَذْنَ ثُمَّ احترام ہیں جیسے تمہارا یہ دن ، تمہارے اس مہینے میں أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ تمہارے اس شہر میں قابلِ احترام ہے۔سنو! جاہلیت وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ کی ہر بات میرے پاؤں کے نیچے مسل دی گئی ہے اور الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى جاہلیت کے خون بھی کالعدم ہیں اور یقیناً اپنے خونوں الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى میں سے سب سے پہلا خون جو میں کالعدم کرتا الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ ہوں۔وہ ابن ربیعہ بن الحارث کا خون ہے۔وہ بنی وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى سعد میں ایام رضاعت میں تھا کہ اُسے ہذیل نے قتل غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا کر دیا تھا اور جاہلیت کے سود بھی کالعدم ہیں اور سب حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أَسَامَةَ خَلْفَهُ سے پہلا سود جو میں کالعدم کرتا ہوں ہمارا سود یعنی وَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عباس بن عبدالمطلب کا سود۔وہ سارے کا سارا وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا کالعدم ہے۔اور عورتوں کے بارہ میں اللہ کا تقوای لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى اختیار کرو۔کیونکہ تم نے ان کو اللہ سے عہد و پیمان أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ كُلَّمَا أَتَى کر کے لیا ہے اور اللہ کے حکم سے ان سے ازدواجی حَبْلًا مِنَ الْجِبَالِ أَرْحَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تعلقات کو جائز قرار دیا ہے اور تمہارا ان پر یہ حق ہے تَصْعَدَ حَتَّى أَتَى الْمُرْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا کہ وہ تمہارے بستر پر کسی کو نہ آنے دیں۔کہ تم الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانِ وَاحد وَإِقَامَتَيْنِ اُسے بُرا جانتے ہو۔اگر وہ ایسا کریں تو ان کو سزا دو۔وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اتنی سزا دو که سخت نہ ہو اور ان کا تم پر حق ان کا کھانا پینا اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَعَ اور مناسب طور پر ان کا لباس ہے۔اور میں نے تم الْفَجْرُ وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ میں وہ چھوڑا ہے کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑ لو تو تم بِأَذَانِ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے یعنی اللہ کی کتاب۔اور الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاهُ تم سے میرے بارہ میں پوچھا جائے گا۔پس تم کیا کہو