صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 120
120 كتاب الحج الْجَاهِلِيَّة فَأَجَازَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کہا، اس نے سچ کہا۔جب تم نے حج کی نیت باندھی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ تھی تو کیا کہا تھا ؟ حضرت علی کہتے ہیں میں نے کہا تھا ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةً فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ اے اللہ! میں وہ احرام باندھتا ہوں جو تیرے رسول الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَسُحِلَتْ لَهُ فَأَتَى نے باندھا ہے۔آپ نے فرمایا تو میرے ساتھ قربانی بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ ہے۔پس تم احرام نہیں کھولو گے۔راوی کہتے ہیں وہ دمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ قربانیاں جو حضرت علی یمن سے لائے تھے اور جو يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ نبی ﷺ لائے تھے ان کی مجموعی تعداد ایک سو تھی۔هَذَا أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّة تَحْتَ راوی کہتے ہیں سب لوگوں نے احرام کھول دیا اور قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ بال کٹوائے سوائے نبی علیہ کے اور ان کے جن کے وَإِنْ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ پاس قربانی تھی۔پھر جب یوم ترویہ آیا تو سب نے مٹی بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي سَعْدِ کا رُخ کیا اور حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ ہے فَقَتَلَتْهُ هُدَيْلٌ وَرَبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوع سوار ہوئے اور آپ نے وہاں ظہر، عصر، مغرب ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رَبَانًا رَبَا عَباس بن عَبْدِ عشاء اور فجر پڑھی۔پھر کچھ ٹھہرے یہانتک کہ سورج بْنِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعْ كُلُّهُ فَاتَّقُوا اللهَ في طلوع ہوا اور آپ کے ارشاد پر نمرہ (مقام) میں النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ الله بالوں سے بنا ہوا ایک خیمہ آپ کے لئے لگایا گیا۔پھر وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلمَة الله ووَلَكُمْ رسول الله نے چلے اور قریش کو کوئی شک نہیں تھا کہ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِفْنَ فَرُشَكُمْ أَحَدًا آپ مشعر حرام کے پاس رکیں گے جیسا کہ قریش تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ جاہلیت میں کیا کرتے تھے مگر رسول اللہ ﷺے وہاں ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ سے گزر گئے یہانتک کہ عرفہ میں آئے۔آپ نے اپنا وَكسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ خیمہ نمرہ میں لگا ہوا پایا۔آپ وہاں اُترے یہانتک کہ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِن اعْتَصَمْتُمْ بِه كِتَابُ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء اونٹنی کے بارہ الله وَأَنتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ میں ارشاد فرمایا۔اس پر آپ کے لئے پالان ڈالا قَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ گیا۔آپ وادی کے درمیان میں تشریف لائے اور