صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 119
119 كتاب الحج فَأَنْكَرَ ذَلكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ إِنَّ أَبي أَمَرَنِي طرح کیا جیسے صفا پر کیا تھا۔یہانتک کہ جب مروہ پر بِهَذَا قَالَ فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ آپ کا آخری چکر تھا تو آپ نے فرمایا اگر میں وہ کر فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سکتا تو جو میں نے نہیں کیا تو میں بھی اپنی قربانی اپنے وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ لِلَّذِي صَنَعَت ساتھ نہ لاتا۔پس تم میں سے جس کے پاس قربانی مُسْتَفْتِيًا لرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نہیں ہے وہ احرام کھول دے اور اسے عمرہ بنا دے۔وَسَلَّمَ فِيمَا ذَكَرَتْ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي اس پر حضرت سراقہ بن مالک بن بخشم کھڑے ہوئے أَنْكَرْتُ ذَلكَ عَلَيْهَا فَقَالَ صَدَقَت صَدَقَت اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا یہ ہمارے اسی سال مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ قَالَ قُلْتُ کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ؟ رسول اللہ کو اپنے اللّهُمَّ إنِّي أَهلُ بمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ قَالَ ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے میں ڈالیں اور فرمایا عمرہ فَإِنْ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحِلُّ قَالَ فَكَانَ حج میں داخل ہو گیا۔یہ دو مرتبہ فرمایا نہیں۔بلکہ ہمیشہ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنَ ہمیش کے لئے اور حضرت علی یمن سے نبی ﷺ کی الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ قربانی کے جانور لے کر آئے تھے۔انہوں نے وَسَلَّمَ مِائَةً قَالَ فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان میں سے پایا جنہوں إِلَّا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ نے احرام کھول دیا تھا اور رنگین کپڑے پہن لئے تھے مَعَهُ هَدْيَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا اور سرمہ لگا لیا تھا۔انہوں (حضرت علیؓ) نے اُن فَأَهَلُوا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ (حضرت فاطمہ) کی اس بات کو اوپر سمجھا تو وہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ بولیں۔میرے ابا نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے۔راوی وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ کہتے ہیں حضرت علی عراق میں بتایا کرتے تھے۔اس مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَت الشَّمْسُ وَأَمَرَ پر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس فاطمہ کی شکایت بقَبَّة منْ شَعَر تُضْرَبُ لَهُ بَنَمرَةَ فَسَارَ کرنے کے لئے اور رسول اللہ ﷺ سے وہ بات رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا پوچھنے کے لئے جو فاطمہ نے آپ کی طرف منسوب کی تَشَكُ قُرَيْسٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ تھی گیا۔اور میں نے آپ کو بتایا کہ میں نے فاطمہ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٍ تَصْنَعُ فِي کی اس بات کو او پر اسمجھا۔آپ نے فرمایا اس نے سچ منی